Himanshu Chakrpani
Himanshu Chakrpani
Himanshu Chakrpani
Ghazalغزل
masala ye hai ki izhaar abhi baaqi hai
مسئلہ یہ ہے کہ اظہار ابھی باقی ہے چاندنی رات میں دیدار ابھی باقی ہے چاند کا حسن گلابوں کی مہک ہے اس میں پھر بھی کہتی ہے کہ سنگار ابھی باقی ہے صرف کنگن کے کھنکنے سے ہوا دل گھائل سوچو پازیب کی جھنکار ابھی باقی ہے ہے غزل نصف صنم آپ مکمل کر دو دل پہ لکھا ہوا اک شعر ابھی باقی ہے جو بھی اب تک ہوئی تخلیق سبھی معمولی قابل ذکر تو شہکار ابھی باقی ہے آج محسوس ہوا دل کے کسی کونے میں اس فریبی کے لیے پیار ابھی باقی ہے ناؤ کو موڑ لے جو ڈوبنے سے ڈرتے ہیں یہ تو ساحل ہی ہے منجدھار ابھی باقی ہے
ik ghazal un par likhi aur gungunaa kar rah gayaa
اک غزل ان پر لکھی اور گنگنا کر رہ گیا جب بھی آئی یاد ان کی چھٹپٹا کر رہ گیا رات بھر میں راستہ تکتا رہا دلدار کا وہ نہ آیا اور میں محفل سجا کر رہ گیا زخم پر انگار رکھ جب حال پوچھا یار نے آنکھ میں آنسو لیے میں مسکرا کر رہ گیا وہ پرندہ جو شکاری سے کبھی ہارا نہیں جب چکھا جام محبت پھڑپھڑا کر رہ گیا شخص جو مرہم لگاتا تھا سبھی کے گھاؤ پر آج وہ اپنے ہی دل پر چوٹ کھا کر رہ گیا
dost saazish kamaal karte hain
دوست سازش کمال کرتے ہیں میرا بد حال حال کرتے ہیں میں نے سجدے میں سر جھکایا تو میری گردن حلال کرتے ہیں آج کل جاں نثار بھی میرے نفرتیں لازوال کرتے ہیں با خدا بے سہارا جان کر سب میرا جینا محال کرتے ہیں ہاتھ دکھتی رگوں پہ رکھ کر پھر لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں دیکھ کر والدین کی صورت ہم خدا کا خیال کرتے ہیں قلب میں چکرپانیؔ خنجر بھی بارہا بد خصال کرتے ہیں





