SHAWORDS
Himanshu Sharma

Himanshu Sharma

Himanshu Sharma

Himanshu Sharma

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کوئی رستہ نہیں جاتا خوشی تک بھٹک جاتی یہاں پر زندگی تک اسی سے دور جانا ہے ہمیں اور پہنچ جاتے ہیں اکثر ہم اسی تک ہمیں پھر سے ملے گا وہ کسی دن یہی ہم سوچتے ہیں آخری تک اگر ہم شاعری کرتے نہیں تو کہانی بھی نہیں جاتی کسی تک خفا رہتی ہے تجھ سے روشنی کیوں یہی تو پوچھتی ہے تیرگی تک ہوئے بدنام ہم تو عاشقی میں کہاں پر ہو سکی یہ عاشقی تک سمے اچھا نہیں ہے اور سوچو پڑی ہے بند کب سے یہ گھڑی تک اسی کارن ہوئے تھے اجنبی ہم محبت کھا گئی تھی دوستی تک

koi rasta nahin jaataa khushi tak

غزل · Ghazal

مانگنے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں تو ہمیں چاہیئے تھا ملا ہی نہیں بچ گئے کیسے تم تو یہ حیرت ہی ہے عشق سے کوئی اب تک بچا ہی نہیں پرورش آ گئی عشق کے سامنے عشق کی جنگ میں ہارتا ہی نہیں کیا ہوا ہے تجھے پوچھتے ہیں سبھی مرض میرا مجھے خود پتہ ہی نہیں ہم برے وقت میں کام آتے میاں رابطہ آپ نے پر رکھا ہی نہیں

maangne ke liye kuchh bachaa hi nahin

غزل · Ghazal

نیند قیمتی ہوتی ہے تو سمجھا کر راتوں میں کب تک جاگے گا سویا کر بول دیا جب اس نے ہاں تو ڈر کیسا حق بنتا ہے تیرا لب پر بوسہ کر ٹیس چلی جائے گی پہلے دھوکے کی عشق کرے جب بھی تو پہلے جیسا کر تنہائی میں اتنا ہنسنا ٹھیک نہیں ہجر کا عالم ہے تو تھوڑا رویا کر غصہ مجھ پہ آیا ہے تو مجھ سے لڑ غصے میں گھر کی چیزیں نہ توڑا کر ذہن ہمیشہ یہاں وہاں بھٹکاتا ہے کبھی کبھی تو دل کا کہنا مانا کر

niind qimti hoti hai tu samjhaa kar

غزل · Ghazal

ہمارا من نہیں لگتا یہاں پر اگر جاتے بھی تو جاتے کہاں پر تمہاری کل جو نتھنی کھو گئی تھی بنی ہے چاند دیکھو آسماں پر کبھی چومے تھے اس کے ہونٹ ہم نے ابھی تک ذائقہ ہے اس زباں پر ہمیشہ بولتی ہو ہم ملیں گے بتاتی ہی نہیں لیکن کہاں پر ذرا سی بات پر ٹوٹے ہیں رشتے کہاں رہتا ہے قابو اب زباں پر بتائیں کیا تمہیں کل شب کہاں تھے بہت رسوائی ہے راز نہاں پر ہمیں جانا کہاں ہے جانتے ہیں نظر رکھے ہوئے ہیں آسماں پر

hamaaraa man nahin lagtaa yahaan par

Similar Poets