Himmat Rai Sharma
Himmat Rai Sharma
Himmat Rai Sharma
Ghazalغزل
fazaa bechain hoti jaa rahi hai
فضا بے چین ہوتی جا رہی ہے جوانی ان پہ شاید آ رہی ہے بلائیں لینے آئی ہیں بہاریں کلی کھلتے ہوئے شرما رہی ہے برسنے کو ترستی ہیں گھٹائیں نگاہ ناز مے برسا رہی ہے بگولے بچھ رہے ہیں راستے میں ہوا دامن میں سمٹی جا رہی ہے سلگ اٹھی ہے رخساروں پہ سرخی یہ بن کی آگ بڑھتی جا رہی ہے لیا مستی نے ہونٹوں کا سہارا حیا آنکھوں سے لپٹی جا رہی ہے
baiThe-biThaae jab bhi koi yaad aa gayaa
بیٹھے بٹھائے جب بھی کوئی یاد آ گیا بے اختیار اشک ہمارے نکل گئے بے تابیاں نہ پوچھ شب انتظار کی آنکھوں میں آ کے چاند ستارے پگھل گئے وہ مجھ کو دیکھ کر جو کبھی مسکرا دئے دنیائے رنگ و بو میں مری پھول کھل گئے وہ کشتیاں کہ جن کو کناروں پہ ناز تھا ان کشتیوں کو آج کنارے نگل گئے اپنی فریب خوردہ نگاہیں جدھر اٹھیں نظریں چرا چرا کے نظارے نکل گئے





