
Hina Abbas
Hina Abbas
Hina Abbas
Ghazalغزل
فلسفہ زندگی کا تھا کچھ اور تھی خودی اور تھا خدا کچھ اور بانٹ لیں گے خوشی مگر غم تو ہے ترا اور ہے مرا کچھ اور علم کاندھوں پہ جب سے ڈھویا ہے قد مرا دیکھ گھٹ گیا کچھ اور درد تنہائی اور محرومی کیا مرے پاس ہے بچا کچھ اور بند آنکھوں سے دیکھ کر جانا تھا بھلا اور تھا برا کچھ اور جب بھی اشکوں سے اس کو دھویا ہے تب رچی ہاتھ میں حناؔ کچھ اور
falsafa zindagi kaa thaa kuchh aur
پھول تتلی ہوا شام میں اور تو کتنی خوش رنگ ہے محفل رنگ و بو ایک جیسی خوشی ایک جیسا ہی غم اک زمیں ایک سا آسماں چار سو جو ہے میرا چلا آئے گا مجھ تلک کس لیے آرزو کس لیے جستجو خوبیوں کا صلہ خامیوں کا بدل جو بھی مجھ کو ملا مجھ سا تھا ہو بہو خود کو بہتر سے بہتر میں کرتی رہی مستقل آئنہ تھا مرے روبرو سجدۂ عشق میں کیا نظر آ گیا آنکھ نم ہے مری اور جبیں سرخ رو
phuul titli havaa shaam main aur tu
اب نہیں کوئی رستہ راستہ بنانا ہے جتنا بن سکے اتنا راستہ بنانا ہے یہ نگاہ جاتی ہے چاند اور تاروں تک تو بتا کہاں تک کا راستہ بنانا ہے تیسرا جو پہلو ہے وہ بھی دیکھنا ہوگا آ گیا ہے دوراہا راستہ بنانا ہے اور کیا بنانا ہے خواہشوں کے جنگل میں گھوم پھر کے اک سیدھا راستہ بنانا ہے ایک اور دنیا ہے آسماں کی اس جانب اب وہاں پہ جانے کا راستہ بنانا ہے تتلیاں بنانی ہیں پھول بھی بنانے ہیں اور تیرے آنے کا راستہ بنانا ہے
ab nahin koi rasta raasta banaanaa hai
بھر گیا ہر اک خلا ایسا معجزہ ہوا مجھ کو مل گیا خدا ایسا معجزہ ہوا جس کو دیپ جان کر رات نے بجھا دیا وہ ستارہ بن گیا ایسا معجزہ ہوا انگنت تھے راستے پھر بھی دل کا راستہ تیرے دل سے جا ملا ایسا معجزہ ہوا درد کا علاج تھا درد میں چھپا کہیں زخم خود ہی بھر گیا ایسا معجزہ ہوا مستطیل ہو گیا زندگی کا دائرہ ہر طرف ہے مرکزہ ایسا معجزہ ہوا
bhar gayaa har ik khalaa aisaa mo'jiza huaa
لال پیلا ہرا رنگ میں نے بھرا عشق بے رنگ تھا رنگ میں نے بھرا رنگ ابھرے نہیں میرے تصویر پہ اس لیے بارہا رنگ میں نے بھرا رنگ رنگوں میں مل کر نئے ہو گئے کیا خبر کون سا رنگ میں نے بھرا میں نے مجنوں کو صحرا میں بھیجے گلاب دشت میں اک نیا رنگ میں نے بھرا کوئی بدلاؤ منظر میں آیا نہیں یوں تو اچھا بھلا رنگ میں نے بھرا زندگی اس طرح سے مکمل ہوئی رنگ تو نے بھرا رنگ میں نے بھرا
laal piilaa haraa rang main ne bharaa
جسم ہلکان اور کیا ہوگا دل پریشان اور کیا ہوگا نرم گوشہ بھی ہو گیا پتھر دل کا نقصان اور کیا ہوگا دل میں رکھے ہیں تیری یاد کے پھول گل کا گلدان اور کیا ہوگا خود سے باہر نکل نہ پائی میں میرا زندان اور کیا ہوگا دل کھچا جائے ہے تری جانب رستہ آسان اور کیا ہوگا زندگانی کی اس کہانی کا غم کا عنوان اور کیا ہوگا
jism halkaan aur kyaa hogaa





