SHAWORDS
Hiralal Yadav Hira

Hiralal Yadav Hira

Hiralal Yadav Hira

Hiralal Yadav Hira

poet
26Ghazal

Ghazalغزل

See all 26
غزل · Ghazal

دور کوئی ہو یہی حال ہمیشہ دیکھا ٹوٹتا روز غریبوں کا بھروسہ دیکھا اور کچھ بھی نہیں بھاتا ہے انہیں دنیا میں جب سے آنکھوں نے صنم آپ کا چہرہ دیکھا زندگی بھر کی تڑپ درد بھری تنہائی عشق بازی کا یہی جگ میں نتیجہ دیکھا دل میں اک ٹیس اٹھی آنکھوں میں آنسو آئے جب بھی عاشق کا کسی جگ میں جنازہ دیکھا میری میت پہ وہ آئے تو یہ کہنا اس سے تیرے عاشق نے ترا آج بھی رستہ دیکھا وہ ہو زردار کوئی یا ہو وہ مفلس ہیراؔ غم کے دریا میں ہر اک شخص کو ڈوبا دیکھا

daur koi ho yahi haal hamesha dekhaa

غزل · Ghazal

یوں نبھ رہی ہے اپنی غم زندگی کے ساتھ نبھتی ہے جیسے اجنبی کی اجنبی کے ساتھ آتے سبھی ہیں شور مچاتے جہان میں جاتے ہیں سب جہاں سے مگر خامشی کے ساتھ سب توڑ لیں گے رابطہ دنیا میں آپ سے ملتے رہیں گے سب سے اگر بے رخی کے ساتھ رہتی ہیں ان سے دور جہاں بھر کی گردشیں جیتے ہیں جو بھی زندگی زندہ دلی کے ساتھ ساتھی وہی ہے سچا تمہارا جہان میں اپنائے تم کو جو بھی تمہاری کمی کے ساتھ ثانی نہیں ہے اس کا کوئی بھی جہان میں کرتا ہے آدمی جو دغا آدمی کے ساتھ ہیراؔ فضول آس ہے دنیا سے پالنا کرتا کہاں وفا ہے زمانہ کسی کے ساتھ

yuun nibh rahi hai apni gham-e-zindagi ke saath

غزل · Ghazal

ہر بات پر جہاں میں اچھالیں گے نام لوگ رسوا کریں گے اور بگاڑیں گے کام لوگ بھاتا ہے کوئی کوئی ہی دل اور دماغ کو ملنے کو یوں تو ملتے ہیں جگ میں تمام لوگ کر کے دکھاؤ کام کوئی زیست میں بڑا چاہت ہے گر جہاں میں کریں احترام لوگ سکھ چین بھی نصیب میں ان کے لکھا ہے یا دکھ درد بس جہاں میں اٹھائیں گے عام لوگ رہتی ہے جس کی سب سے شکایت جہان میں کرتے ہیں خود بھی کام وہی صبح شام لوگ آئی سمجھ میں بات ہمیں یہ نہ آج تک کیونکر کسی نشہ کا ہیں بنتے غلام لوگ جگ میں بدی کی راہ پہ چلتے ہیں جو بشر کرتے ہیں دور سے ہی انہیں رام رام لوگ جیتے جی حال پوچھنے کا بھی سمے نہ تھا مرنے کے بعد کر رہے ہیں تام جھام لوگ ہیراؔ ڈرو گے سب سے اگر بات بات پر جینا کریں گے اور جہاں میں حرام لوگ

har baat par jahaan mein uchhaaleinge naam log

غزل · Ghazal

ہم کو ملی سزا ہے خطا کے بغیر بھی وہ باوفا ہوئے ہیں وفا کے بغیر بھی من مار کر جہان میں جینے کے واسطے رہتے ہیں لوگ ساتھ رضا کے بغیر بھی جادو کسی کے عشق کا ہوگا چلا ضرور جو لڑکھڑا رہے ہیں نشہ کے بغیر بھی جو بھی ملا ہے مان کے قسمت اسے یہاں جیون بتا رہے ہیں مزہ کے بغیر بھی دیتے تھے سر کٹا کبھی عزت کے واسطے اب جی رہے ہیں لوگ انا کے بغیر بھی پردا ہٹا کے چاند سا چہرہ دکھائیے روشن ہو میری رات ضیا کے بغیر بھی پیڑوں کو کاٹو بعد میں پہلے یہ سوچ لو کیا سانس لے سکو گے ہوا کے بغیر بھی یہ سوچنا بھی کفر ہے انسان کے لیے قائم ہے کچھ جہاں میں خدا کے بغیر بھی

ham ko mili sazaa hai khataa ke baghair bhi

غزل · Ghazal

دور کوئی ہو یہی حال ہمیشہ دیکھا ٹوٹتا روز غریبوں کا بھروسہ دیکھا اور کچھ بھی نہیں بھاتا ہے انہیں دنیا میں جب سے آنکھوں نے صنم آپ کا چہرہ دیکھا سامنے دیکھ پڑی زر کی تجوری یارو پل میں انسان کا ایمان بدلتا دیکھا زندگی بھر کی تڑپ درد بھری تنہائی عشق بازی کا یہی جگ میں نتیجہ دیکھا دل میں اک ٹیس اٹھی آنکھوں میں آنسو آئے جب بھی عاشق کا کسی جگ میں جنازہ دیکھا میری میت پہ وہ آئے تو یہ کہنا اس سے تیرے عاشق نے ترا آج بھی رستہ دیکھا وہ ہو زردار کوئی یا ہو وہ مفلس ہیراؔ غم کے دریا میں ہر اک شخص کو ڈوبا دیکھا

daur koi ho yahi haal hamesha dekhaa

غزل · Ghazal

بھوکے رہ کر زندگی کے دن بتا سکتا ہوں میں مانگ کر ہرگز نہیں دنیا میں کھا سکتا ہوں میں دوستی کرنا بہت مشکل نہیں ہے خواب سے پر حقیقت سے نہیں نظریں چرا سکتا ہوں میں تیری جانب سے اشارے کی ضرورت ہے مجھے اپنی پلکوں پر تجھے دلبر بٹھا سکتا ہوں میں آپ کا گر ساتھ ہو تو زندگانی میں صنم جو نہیں ممکن وہ سب کر کے دکھا سکتا ہوں میں بیچ کر ایمان گر حاصل خوشی کرنی پڑے شوق سے تا عمر پھر آنسو بہا سکتا ہوں میں ہو مبارک آپ کو ہی بے دلی اور بے رخی دل نہ پتھر آپ کے جیسا بنا سکتا ہوں میں

bhuke rah kar zindagi ke din bitaa saktaa huun main

Similar Poets