
Humaira Gul Tishna
Humaira Gul Tishna
Humaira Gul Tishna
Ghazalغزل
گھرانوں سے محبت کی فضائیں چھین لیتے ہیں ستم گر پھول سے بچوں کی مائیں چھین لیتے ہیں ہمارے بادشاہوں کو ہے نفرت شور سے اتنی کہ مظلوموں سے رونے کی صدائیں چھین لیتے ہیں کہیں ہیں کفر کے فتوے کہیں شور ملامت ہے خدا جب لوگ بن جائیں جزائیں چھین لیتے ہیں الٰہی تیری بستی میں یہ کیسے لوگ بستے ہیں سروں پر ہاتھ رکھتے ہیں ردائیں چھین لیتے ہیں کسی مفلس کی مجبوری کسی کی بھوک کا سودا خدا کے نام پر ظالم قبائیں چھین لیتے ہیں زبان نرم سے کرتے ہیں پہلے پیار کی باتیں بلا کر پاس پھر جبراً حیائیں چھین لیتے ہیں مری کھڑکی کے آگے لوگ اٹھا دیتے ہیں دیواریں مرے کمرے کے حصے کی ہوائیں چھین لیتے ہیں محبت ڈھیر پر کچرے کے ہر اک جا بلکتی ہے کہ تہمت بانٹنے والے وفائیں چھین لیتے ہیں بتاؤ کس طرح تشنہؔ یہاں سیراب ہو کوئی سمندر خشک صحرا سے گھٹائیں چھین لیتے ہیں
gharaanon se mohabbat ki fazaaein chhin lete hain
بے دم ہوئے یوں ہو کے گرفتار محبت کہتا ہے مسیحا کہ ہوں بیمار محبت روتا ہے شب ہجر میں دل خون کے آنسو ملتا نہیں کوئی اسے غم خوار محبت ان حسن کی گلیوں میں خریدار بہت ہیں لگتا ہے شب و روز یہ بازار محبت الفاظ ہیں خنجر تو بجھا زہر میں لہجہ ایسے میں بھلا کیسے ہو اقرار محبت اب عشق ہے رسوا تو بگڑتا ہے ترا کیا بیکار میں کرتا ہے تو پیکار محبت مٹ جائیں گے ہم ان کو خبر تک نہیں ہوگی یہ سوچ کے کرنا پڑا اظہار محبت اب دیکھیں وہاں کون لگائے نئی بولی آتے ہیں جہاں روز خریدار محبت تنہائی میں سوچا تجھے جانا تجھے سمجھا پھر کھلنے لگے ہم پہ بھی اسرار محبت تشنہؔ سے کریں لوگ محبت کی جو باتیں کیسے میں بتاؤں کہ ہوں بے زار محبت
be-dam hue yuun ho ke giraftaar-e-mohabbat
آرزوئے دل کا یہ انجام ہونا چاہیے کیا مجھے بھی عشق میں ناکام ہونا چاہیے کیوں بھلا ابلیس کو الزام دیتے ہو فقط تم کو خیر و شر کا بھی الہام ہونا چاہیے باپ کی دستار بیچیں بہن کی کھینچیں ردا مرد کی غیرت پہ اب نیلام ہونا چاہیے مطلبی دنیا میں ہے گم ابن آدم اس قدر کام ہونا چاہیے بس کام ہونا چاہیے ڈھونڈنے سے گر نہیں ملتا خدا پھر ڈھونڈیئے صبح اس کی جستجو میں شام ہونا چاہیے گر نصیبوں میں نہیں وہ شخص لکھا اے خدا کچھ دعاؤں کا مری انعام ہونا چاہیے عشق کی معراج ہو اے کاش ایسا معجزہ نام کوئی لے وہ میرا نام ہونا چاہیے گر تجھے بننا ہے تشنہؔ شاعرہ اک بے بدل تیرے ہر اک شعر میں ابہام ہونا چاہیے
aarzu-e-dil kaa ye anjaam honaa chaahiye
تشنہؔ فضائے صبح چمن میں خمار ہے لیکن جو دل کی بات کروں بے قرار ہے پھولوں کے سرخ ڈھیر کے پیچھے ہے تیز تیغ یوسف کے بھائیوں کا کہاں اعتبار ہے گردش کا آسمان ہے شورش کی خاک پر آدم تری زمیں پہ بہت سوگوار ہے لوگوں سے ربط ضبط ہے دنیا سے اتفاق شاید یہ اپنے آپ سے میرا فرار ہے شکوہ کریں گے ہم نہ تغافل شعار کا محفل میں کم سخن کا زیادہ وقار ہے تاروں کی سیرگاہ سے اس کا پکارنا مجھ کو عجیب وہم ہے اور بار بار ہے تشنہؔ کبھی تو بیٹھ کے ان سے کلام کر کیوں تجھ کو خامشی سے بتا اتنا پیار ہے
'tashna' fazaa-e-subh-e-chaman mein khumaar hai
یہ سچ نہیں ہے کہ اس کو میری محبتوں کی خبر نہیں ہے اسے پتہ ہے کہ عشق میرا فقط فریب نظر نہیں ہے صبیح چہرے پہ روشنی ہو اگر جو باطن سے عشق پھوٹے تمام دنیا میں عشق جیسا کوئی بھی کار دگر نہیں ہے جو راہ ڈھونڈے وہ راہ پائے جو راہ پائے وہ بھول جائے تلاش کر لے جو اصل اپنی وہی ہے جو بے خبر نہیں ہے سوال سچا جواب جھوٹا جمال مذہب خیال کافر عطائے عشق عجب ہے سب کچھ کسی کو اس سے مفر نہیں ہے یہ عشق اول یہ عشق آخر یہ عشق ظاہر یہ عشق باطن کہ لا میں پنہاں ہیں راز کتنے کسی کو کوئی خبر نہیں ہے یہ عشق رستہ یہ عشق منزل یہ عشق عاصی یہ عشق زاہد دیا ہے سدرہ کے راستے پر یہاں پہ سب کا گزر نہیں ہے نظارہ سینے سے روح کھینچے حجاب اٹھے تو آنکھ دیکھے حقیقتوں کا نگر کہے اب اگر نہیں ہے مگر نہیں ہے
ye sach nahin hai ki us ko meri mohabbaton ki khabar nahin hai
جو سخن کو میرے سنا کرے مرا عکس بن کے ملا کرے وہی ہم سفر مری راہ میں مری روشنی جو خدا کرے مجھ چاند سے نہیں کچھ غرض مجھے مہر سے کیا گلہ کہ بس جو چراغ مجھ کو پسند ہے مرے طاقچے میں جلا کرے میں دروغ گوئی سے تنگ ہوں میں منافقوں سے بری کہ اب مجھے دوست وہ ہی عزیز ہے کہ جو بات منہ پہ کہا کرے مرا لفظ میرا چراغ ہے مرا حرف ماہ تمام ہے جو سخن کی بزم کا شاہ ہو وہی ہم کلام ہوا کرے جو گلاب ملنے میں سہل ہو مجھے اس کی کوئی طلب نہیں مجھے پھول ایسا پسند ہے کہ جو مشکلوں سے ملا کرے
jo sukhan ko mere sunaa kare miraa 'aks ban ke milaa kare





