SHAWORDS
Husain Abid

Husain Abid

Husain Abid

Husain Abid

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

زمیں کا دم نکلتا جا رہا ہے خدا کا کام چلتا جا رہا ہے یہ کن ہاتھوں میں سورج آ گیا ہے چھتوں سے دن پگھلتا جا رہا ہے پرندے ممٹیوں پہ رو رہے ہیں شجر ہر گھر سے کٹتا جا رہا ہے عجب سا وہم دل پہ جم گیا ہے بدن سائے سے گھٹتا جا رہا ہے ہوا بھی سرد ہوتی جا رہی ہے سمندر بھی اترتا جا رہا ہے جو سنتے ہیں وہ گم جاتا ہے فوراً جو لکھتے ہیں وہ مٹتا جا رہا ہے

zamin kaa dam nikaltaa jaa rahaa hai

غزل · Ghazal

قدم کہیں پہ ارادہ کہیں کا رکھتے ہیں خلا میں رہتے ہیں منظر زمیں کا رکھتے ہیں یہ کون ان کی نظر واہموں سے بھرتا ہے جو اپنے بستے میں نامہ یقیں کا رکھتے ہیں یہ کیا کہ روح کی کوئی زمیں نہ کوئی وطن جہاں کی مٹی ہو اس کو وہیں کا رکھتے ہیں اسی لیے تو پرندوں کے پر نکلتے ہیں کہ آستاں نہ بکھیڑا جبیں کا رکھتے ہیں اسی کے فیض سے نا مہرباں ہوا ہے دل مکاں مزاج ہمیشہ مکیں کا رکھتے ہیں

qadam kahin pe iraada kahin kaa rakhte hain

غزل · Ghazal

راحت و رنج سے جدا ہو کر بیٹھ رہیے کہیں خدا ہو کر لوٹ آیا ہے آنکھ کے در پر خواب تعبیر سے رہا ہو کر لطف آیا نظر کو جلنے میں چاند کے سامنے دیا ہو کر اے مرے شعر اپنی تابانی دیکھ اس شوخ سے ادا ہو کر حبس ہوتا گیا خمار اپنا رنگ اڑتے گئے ہوا ہو کر خیمۂ گل لپیٹ لے ہمدم دیکھ صرصر چلی صبا ہو کر

raahat o ranj se judaa ho kar

غزل · Ghazal

کبھی وفور تمنا کبھی ملامت نے تھکا دیا ہے بدن روز کی خجالت نے میں زخم زخم تھا بستر کی سلوٹوں میں گھرا مرا جو حال کیا صبح کی ملاحت نے فضائے جبر تجھے چاک چاک کر دیں گے نگل لیے جو ستارے تری کثافت نے کسی جمال کی چھب ہو کسی کمال کی ضو اجاڑ ڈالا ہے پژمردگی کی عادت نے ہم ایسے کون سے غرق نشاط و عیش تھے جو ہمیں ہی تاک لیا خوف کی رسالت نے غرور ہی کا نہ بہروپ ہو حسین عابدؔ جو عجز تجھ کو دیا ہے تری عبادت نے

kabhi vafur-e-tamannaa kabhi malaamat ne

غزل · Ghazal

ٹوٹ کر گرتی فصیلوں پر ہوا کا شور تھا رات بھر شہر بدن میں کس بلا کا شور تھا دھوپ نکلی تو وہی پیاسی زمیں کے ہونٹ تھے بستیوں میں دور تک گہری گھٹا کا شور تھا طائر خوشبو کے حق میں ہجرتیں ورثہ ہوئیں خیمہ گاہ گل میں وہ باد صبا کا شور تھا شہر سارا خوف کے گونگے قلعے میں قید تھا اک خدائے وقت کی حاکم صدا کا شور تھا وہ فقط اک شور تھا ہم پر پس مقتل کھلا حلقۂ یاراں میں جو رسم وفا کا شور تھا

TuuT kar girti fasilon par havaa kaa shor thaa

غزل · Ghazal

خیالوں خیالوں میں کس پار اترے نہ دشمن کوئی ناں جہاں یار اترے گرفتار ہے سحر آئینہ گر کا پس آئینہ کس طرح یار اترے زبان و بیاں داستاں سب بدل دے کہانی میں ایسا بھی کردار اترے تصور میں تو گنگناتی ندی تھی سمندر میں کیسے یہ سرکار اترے سو گردن جھکا کر نگاہ تان لی ہے کہ انکار و اقرار کا بار اترے

khayaalon khayaalon mein kis paar utre

Similar Poets