SHAWORDS
H

Husain Khan Jhanjhat

Husain Khan Jhanjhat

Husain Khan Jhanjhat

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کیوں یہ دھوکے میں پڑا بھائی ترا کچھ بھی نہیں تو جو کہتا ہے مرا بھائی ترا کچھ بھی نہیں وقت اک جھونکا ہوا کا ہے ٹھہرتا ہی نہیں اس پہ آنسو نہ بہا بھائی ترا کچھ بھی نہیں کیا سکندر کی سوانح تجھے معلوم نہیں سوچ اس پر بھی ذرا بھائی ترا کچھ بھی نہیں لوٹ جانا ہے بہرحال سبھی کو اک دن شور اتنا نہ مچا بھائی ترا کچھ بھی نہیں پھنس کے دنیا کے جھمیلوں میں نہ تو جھنجھٹؔ کر رال اس پر نہ گرا بھائی ترا کچھ بھی نہیں

kyon ye dhoke mein paDaa bhaai tiraa kuchh bhi nahin

غزل · Ghazal

مسئلہ جو مرے در پیش ہے تو حل کر دے زندگی میری ادھوری ہے مکمل کر دے دل خاموش پہ اک ہلکی سی دستک دے کر جذبۂ شوق مرا اور بھی چنچل کر دے جب بھی گردن میں جھکاؤں تو نظر آئے تو اپنی تصویر مرے دل میں مقفل کر دے تو گھٹا بن کے فضاؤں میں بکھر جا ہر سو میری چاہت کو بھی آوارہ سا بادل کر دے لے کے انگڑائی جکڑ لے مجھے ناگن کی طرح میرے اس جلتے بدن کو ذرا صندل کر دے چشم نرگس جو خدا نے تجھے بخشی اے صنم اے صنم مجھ کو بھی ان آنکھوں کا کاجل کر دے اب نہ جھنجھٹؔ رہے باقی نہ شکایت کوئی بن کے ہم راہ سر راہ تو ہلچل دے

masala jo mire dar-pesh hai tu hal kar de

غزل · Ghazal

علم کی شمع اندھیرا نہیں ہونے دیتی اپنے کردار کو میلا نہیں ہونے دیتی اپنے اسلاف کی تعلیم ہی کچھ ایسی ہے عزم و ہمت کو جو پسپا نہیں ہونے دیتی گردش خون رگ و پے میں ابھی جاری ہے اک یہی سوچ نکما نہیں ہونے دیتی خندہ پیشانی سے ہر ایک سے پیش آتا ہوں میری عادت مجھے رسوا نہیں ہونے دیتی زندگی سے مری وابستہ ہیں یوں رنج و الم یاد ان کی کبھی تنہا نہیں ہونے دیتی نہ شکایت ہے تھکن کی نہ گلہ محنت کا ذمہ داری مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتی جب سے حالات سے سمجھوتا کیا ہے جھنجھٹؔ مفلسی میرا تماشا نہیں ہونے دیتی

'ilm ki sham' andheraa nahin hone deti

Similar Poets