Husain Sahar
کرن کرن کے درخشندہ باب میرے ہیں تمام روشنیوں کے نصاب میرے ہیں شبوں کے سبز جزیرے ہیں سب مری اقلیم تمام جاگتی آنکھوں کے خواب میرے ہیں میں ہوں تمام دھڑکتے دلوں کا شیدائی یہ آبگینے یہ نازک حباب میرے ہیں تمام عمر تخاطب مرا مجھی سے رہا سوال میں نے کئے ہیں جواب میرے ہیں خدائے دشت کی تقسیم پر میں راضی ہوں کہ آب پارے ترے ہیں سراب میرے ہیں نصیب آج ہیں کانٹے اگر تو کیا غم ہے نئی رتوں کے شگفتہ گلاب میرے ہیں میں آفتاب کے مانند ہوں نقیب سحرؔ سیاہیوں پہ سبھی احتساب میرے ہیں
kiran kiran ke darakhshanda baab mere hain