
Husain Taj Rizvi
Husain Taj Rizvi
Husain Taj Rizvi
Ghazalغزل
jab jhuuT raaviyon ke qalam bolne lage
جب جھوٹ راویوں کے قلم بولنے لگے ہر خود سری کو جاہ و حشم بولنے لگے اک اذن لب کشائی نے بے باک کر دیا دیکھو کس اعتماد سے ہم بولنے لگے کوئی کسی سے پوچھ رہا تھا ترا سراغ اٹھ اٹھ کے میرے نقش قدم بولنے لگے سمجھے تھے آستین چھپا لے گی سب گناہ لیکن غضب ہوا کہ صنم بولنے لگے حق گوئی کے محاذ پہ منظر بدل گیا خاموش سب عرب ہیں عجم بولنے لگے تنبیہ کی تھی دل کی دہن بھی سیے مگر میں کیا کروں کہ دیدۂ نم بولنے لگے ماحول بد گمان تھا تنگ آ کے تاجؔ بھی خاموش ہونے والے تھے کم بولنے لگے
maahaul se jaise ki ghuTan hone lagi hai
ماحول سے جیسے کہ گھٹن ہونے لگی ہے بے کیفیتی عضو بدن ہونے لگی ہے کچھ فرق سا محسوس نہیں شام و سحر میں اٹھنے کے تصور سے تھکن ہونے لگی ہے مفقود ہوئی خنکیٔ احساس نظر سے سبزوں کو بھی دیکھے سے جلن ہونے لگی ہے کچھ اس سے گلہ بھی ہے کچھ اپنی بھی خطائیں یوں اس کے تصور سے چبھن ہونے لگی ہے حساس بھی امروز طبیعت سے زیادہ اور تیز بھی کچھ بوئے سمن ہونے لگی ہے پہلے بھی تری بات ہی مرکز تھی سخن کا اب یاد تری صرف سخن ہونے لگی ہے اے تاجؔ ترے ایک نشیمن کے حسد میں آ دیکھ کہ تخریب چمن ہونے لگی ہے
subut-e-jurm na milne kaa phir bahaana kiyaa
ثبوت جرم نہ ملنے کا پھر بہانہ کیا کہ عدلیہ نے وہی فیصلہ پرانا کیا ہوا کے اپنے مسائل ہیں اور چراغ کے بھی نہ وہ غلط نہ عمل اس نے مجرمانہ کیا یہ تم نے جنگ کا عنوان ہی بدل ڈالا علم سجایا نہ لشکر کوئی روانہ کیا ہری بھری تھیں جو شاخیں وہی پھلیں پھولیں اسی شجر کو پرندوں نے آشیانہ کیا سوال میں نے بھی رکھے گزارشوں کی طرح بدل کے اس نے بھی انداز دلبرانہ کیا مرے لیے ہی عداوت کے در بھی کھولے گئے مرے ہی نام محبت کا بھی خزانہ کیا ہمیشہ وعدے ہوئے تاج کے حوالے سے اگرچہ تخت نے وعدہ کبھی وفا نہ کیا
uljhanein itni thiin manzar aur pas-manzar ke biich
الجھنیں اتنی تھیں منظر اور پس منظر کے بیچ رہ گئی ساری مسافت میل کے پتھر کے بیچ رخ سے یہ پردہ ہٹا بے ہوش کر مجھ کو طبیب گفتگو جتنی بھی ہو پھر زخم اور نشتر کے بیچ اس کو کیا معلوم احوال دل شیشہ گراں ورنہ آ جاتا کبھی تو ہاتھ اور پتھر کے بیچ شوق سجدہ بندگی وارفتگی اور بے خودی معتبر سب اس کی چوکھٹ اور میرے سر کے بیچ اک قیامت حسن اس کا اور وہ بھی جلوہ گر میں فقط مبہوت جادو اور جادوگر کے بیچ میں بھی خودداری کا مارا تھا صفائی کچھ نہ دی اس نے بھی مطلب نکالے لفظ اور تیور کے بیچ وقت اور مصروفیت کے مسئلے سب اک طرف دوریاں اتنی نہیں تھیں تاجؔ اپنے گھر کے بیچ
is haal mein jiite ho to mar kyuun nahin jaate
اس حال میں جیتے ہو تو مر کیوں نہیں جاتے یوں ٹوٹ چکے ہو تو بکھر کیوں نہیں جاتے کیسے ہیں یہ ارمان یہ کاوش یہ تگ و دو منزل نہیں معلوم تو گھر کیوں نہیں جاتے اشکوں کی طرح کیوں مری پلکوں پہ رکے ہو خنجر کی طرح دل میں اتر کیوں نہیں جاتے مانا کہ یہ سب زخم جگر تم نے دیئے ہیں مرہم سے کسی اور کے بھر کیوں نہیں جاتے آئینہ ہے ماحول ہے اسباب ہیں تم ہو خاطر مری اک بار سنور کیوں نہیں جاتے بے خود تھے کیا غیر سے وعدہ مجھے منظور آیا ہے اگر ہوش مکر کیوں نہیں جاتے اے تاجؔ امیدوں کے یہ موسم بھی عجب ہیں ہر رت کی طرح یہ بھی گزر کیوں نہیں جاتے
Dhali jo shaam nazar se utar gayaa suraj
ڈھلی جو شام نظر سے اتر گیا سورج ہوا کسی نے اڑا دی کہ مر گیا سورج سحر ہوئی نہیں کب سے گزشتہ شام کے بعد غروب ہو کہ نہ جانے کدھر گیا سورج سجی ہوئی ہے ستاروں کی انجمن اے دل کہ پارہ پارہ فلک پر بکھر گیا سورج لگا کہ کھینچ لی اس نے زمین پیروں سے لگا کہ تلووں کو چھو کر گزر گیا سورج یہ کیسا جلوہ کے بینائی لٹ گئی میری کہ میری آنکھ کے اندر اتر گیا سورج چھپا تھا مصلحتاً شام سے سمیٹ کے نور مہیب رات یہ سمجھی کہ ڈر گیا سورج شفق تمام لہو رنگ ہو گیا لیکن ہجوم غم سے بہت پر جگر گیا سورج ہمیشہ تاج کا اقبال یوں بلند رہا جدھر جدھر نظر آیا ادھر گیا سورج





