Husainul Haq
ساحل شام پہ کچھ خواب سے افسانے سے ڈھونڈھتے رہتے ہیں کچھ لوگ ہیں دیوانے سے رات پھر عکس کا جمگھٹ سا لگا رہتا ہے اپنے بیگانے سے اور جانے سے انجانے سے رات بھر اس کی تمنا کا فسون پیہم رات بھر خواب میں جلتے ہوئے پروانے سے ما غلامان در کوئے محمد ہستیم ہم کو کیا کام کسی اور گلی جانے سے وہ پکاریں تو حسینؔ ان کی گلی کو دوڑیں وہ نکالیں تو نکل جائیں خدا خانے سے
saahil-e-shaam pe kuchh khvaab se afsaane se