Hussamuddin Shola
اس سے مل کر بھی رہا پیاسا تو پھر وہ نہ بن پایا اگر دریا تو پھر آئنہ سچ بولتا ہے سچ ہے یہ وہ جو شوخی پر اتر آیا تو پھر ایسا ویسا سوچتا رہتا ہوں میں ایسا ویسا اس نے بھی سوچا تو پھر وہ نہ ٹالے گا مری اس بات کو اس نے مجبوراً اگر ٹالا تو پھر جس کی خاطر جوجھتا رہتا ہوں میں زندگی ہی میں اسے پایا تو پھر میرا کیا مجنوں ابھی بن جاؤں گا وہ نہ بن پائی اگر لیلیٰ تو پھر میں سمجھتا ہوں جسے مخلص مرا آستیں کا سانپ وہ نکلا تو پھر رک ذرا اے دل ابھی تو بھیڑ ہے وہ جب ہو جائے گا جو تنہا تو پھر سرد شعلہؔ جان کر چھیڑو نہ تم بے ارادہ میں اگر بھڑکا تو پھر
us se mil kar bhi rahaa pyaasaa to phir