Huzaifa Ashraf Aasmi
Huzaifa Ashraf Aasmi
Huzaifa Ashraf Aasmi
Ghazalغزل
kahaani se nikalne mein zaraa si der lagti hai
کہانی سے نکلنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے وفا کی دھوپ ڈھلنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے یہ دہشت کا ہے دن ایسا ذرا دل کو سنبھالو تم یہاں دن کے بدلنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے نہ جانے کب کوئی آنسو مرا دامن بھگو دے گا نگاہوں کو چھلکنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے کسی کی خوش کلامی پر نہ مر مٹنا مرے یارو یہاں لہجے بدلنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے حذیفہؔ کب تلک خود کو نکھاروگے سنوارو گے سدھر کر پھر بگڑنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
mire dil ke nihaan-khaanon mein baiThe hain judaa ho kar
مرے دل کے نہاں خانوں میں بیٹھے ہیں جدا ہو کر وہ کہتے تھے رہیں گے ساتھ رہتے ہیں جدا ہو کر پشیماں ہو گیا آخر پشیماں ہو گیا آخر لگی جو دل پہ ایسی چوٹ سہتے ہیں جدا ہو کر بہاریں تھیں ترے آنے سے جانے سے خزائیں ہیں مرے آنسو چھپے تھے جو وہ بہتے ہیں جدا ہو کر مرے آنسو ٹپکتے ہی مرے رخسار چمکے ہیں چمکتے خواب تھے میرے جو بہتے ہیں جدا ہو کر وہ اپنے تھے حذیفہؔ کے لبوں کو گل جو کہتے تھے وہ گل اب زرد ہو کے بھی مہکتے ہیں جدا ہو کر
mujhe us ki use meri abhi pahchaan honaa thaa
مجھے اس کی اسے میری ابھی پہچان ہونا تھا یہ دو روحیں بھٹکتی ہیں انہیں یک جان ہونا تھا تری باتیں ترے قصے وہ گل مینا حسیں یادیں کسے معلوم تھا آخر انہیں انجان ہونا تھا مرا قاتل نجانے کب سے میری راہ دیکھے ہے نہیں شاطر یہ کمسن ہے اسے وجدان ہونا تھا یہ وحشت کا تقاضہ تھا اسے چھوڑا ہے پر مولا مجھے کیوں صبر آیا ہے ابھی ہلکان ہونا تھا تری باتیں تری یادیں مرے دل سے نکل جاتیں حذیفہؔ کا ابھی اک اور تو نقصان ہونا تھا
ik naam jo mahfil mein pukaaraa nahin jaataa
اک نام جو محفل میں پکارا نہیں جاتا وہ نام وہاں پھر سے دوبارہ نہیں جاتا جس دور میں ملتی تھی یہاں سب کو رہائی اس دور سے کیوں مجھ کو گزارا نہیں جاتا ملتا رہا یہ زہر امیری کا جو مجھ کو وہ حلق میں اٹکا ہے اتارا نہیں جاتا تو بھی یہ سمجھتا ہے چلا جاؤں گا میں بھی ہوں یار ترے پاس خدارا نہیں جاتا جو روند گئے کیونکہ وہ اپنے تھے حذیفہؔ سو ان کی طرف میرا اشارہ نہیں جاتا





