Ibraheem Aajiz
Ibraheem Aajiz
Ibraheem Aajiz
Ghazalغزل
na tanhaa main hi dam bhartaa huun teri aashnaai kaa
نہ تنہا میں ہی دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا جہاں میں شور ہے اے شوخ تیری دل ربائی کا جبین مہر و مہ میں کیا سبب اتنی صفائی کا انہیں بھی شغل ہے کیا تیرے در پر جبہ سائی کا لہو کی ندیاں ایام فرقت میں بہاتا ہوں خیال آتا ہے جب مجھ کو ترے دست حنائی کا وفا کی ہو کسی کو تجھ سے کیا امید او ظالم کہ اک عالم ہے کشتہ تیری طرز بے وفائی کا یہی رہ رہ کے آتا ہے ہمارے دل میں اے عاجزؔ حسینوں کے دروں پر کیجئے پیشہ گدائی کا
chaahiye parhez-e-gardish chashm-e-shokh-e-yaar ko
چاہئے پرہیز گردش چشم شوخ یار کو گھومنے سے جب زیاں ہے مردم بیمار کو ہوں مریض عشق ہے یہ درد میرا لا دوا ہوگی صحت کیا مسیحا سے ترے بیمار کو ناوک بے پر اگر ہے اس کی مژگان دراز قوس کیوں سمجھے نہ عاشق ابروئے خم دار کو میری ہی نفرت نے کی الفت رقیبوں سے سوا وصل کی دولت میسر کیوں نہ ہو اغیار کو شام غربت ہجر میں تو وصل میں صبح وطن دیکھتا ہوں اپنے گھر میں سایۂ دیوار کو کیا قیامت ہے درازیٔ شب یلدائے ہجر روز محشر پر جو رکھا وعدۂ دیدار کو ایک درہم کی اسے خواہش تو لاکھوں کی اسے شکر مفلس سے زیادہ ہے کہیں زردار کو نقد جاں دے کر زلیخا نے لیا سودائے عشق حسن یوسف کی جو دیکھا گرمئ بازار کو ابن آدم سے بھی چھینی عشق ہی نے سلطنت کر دیا محتاج اسی نے مالک دینار کو اس زمانے میں بڑی ہوتی ہے زرداروں کی قدر پوچھتا ہے کون عاجزؔ مفلس نادار کو
vaah kyaa khuub mah-laqaa dekhaa
واہ کیا خوب مہ لقا دیکھا جلوہ اس کا ہر ایک جا دیکھا وہ عیاں تھا تو شے نہاں دیکھی جب ہوئی شے عیاں تو کیا دیکھا وحدت صرف آئی کثرت میں پردہ اس پر پڑا ہوا دیکھا دیر میں ہے نہ وہ حرم میں ہے لیکن اس کو ہر ایک جا دیکھا سر کہا جس نے سر گیا اس کا عارفوں نے یہ آزما دیکھا بحر کوزہ میں کب سماتا ہے عقل کا تنگ حوصلہ دیکھا دید ہے جس کی عین بینائی نہیں دیکھا اسے تو کیا دیکھا ابن مریم سے بھی تو کچھ نہ ہوا درد دل ہائے لا دوا دیکھا بادشاہی میں وہ کہاں حاصل فقر میں ہم نے جو مزا دیکھا بلبل خوش نوا کو اے عاجزؔ گل و گلزار سے جدا دیکھا
hausle kyon na dil-e-charkh-e-kuhan ke nikle
حوصلے کیوں نہ دل چرخ کہن کے نکلے مثل یوسف نہ پھرے جو ہیں وطن کے نکلے مر مٹے جو تری الفت میں وہ آزاد ہوئے جیتے جی بند سے وہ رنج و محن کے نکلے میں تو خوش ہو کے عوض اس کے دعائیں دوں گا منہ سے دشنام جو اس غنچہ دہن کے نکلے گالیاں دے کے تو کر پیار سے باتیں اے شوخ ہم تو شیدا ترے انداز سخن کے نکلے سرفروشوں کو خبر دو سر مقتل آئیں ہاتھ میں تیغ لئے آج وہ تن کے نکلے سرو و شمشاد و صنوبر جو کھڑے ہیں لب جو علم سبز ہیں ماتم میں حسن کے نکلے گھر سے ہم اپنے گناہوں کی حیا سے عاجزؔ منہ چھپائے ہوئے گھونگھٹ میں کفن کے نکلے
zaanu par us ke raat rahaa sar tamaam raat
زانو پر اس کے رات رہا سر تمام رات پیش نظر رہا رخ دلبر تمام رات کس سے کہوں کٹی مری کیوں کر تمام رات تڑپا کیا مرا دل مضطر تمام رات بیٹھا رہا ہوں شام سے اکثر تمام رات گنتا رہا ہوں ہجر میں اختر تمام رات ایسا بندھا تصور ابرو کہ خواب میں کاٹا کیا گلا دم خنجر تمام رات کیا جانتا ہے وحشت شبہائے تار کو کاٹی ہو جیسے شمع جلا کر تمام رات ہو گرچہ بے نوا وہی سلطان وقت ہے جس کو ہے وصل یار میسر تمام رات اے عاجزؔ ان کی کیوں نہ دعا مستجاب ہو کرتے ہیں جو عبادت داور تمام رات
naaz hai mashq-e-jafaa par us sitam-ijaad ko
ناز ہے مشق جفا پر اس ستم ایجاد کو کب کرے گا شاد میری خاطر ناشاد کو کس طرح کا سم قاتل ہے یہ شربت عشق کا جان شیریں زہر آخر ہو گئی فرہاد کو رحم جب کرتا نہیں نالوں سے پھر کیا فائدہ دردمندی بلبل نالاں سے کیا صیاد کو کیسے وہ خوش فہم ہیں پتھر پڑے اس فہم پر جو جہان آباد سمجھے اس خراب آباد کو اک تعلق سے ہزاروں رنج ہوتے ہیں نصیب فکر کرتے کس نے دیکھا ہے کسی آزاد کو جانتے ہیں جزو ہے ایمان کا حب وطن بے طرح بھولے وطن ہیں کیا ہوا استاد کو نالہ و زاری میں اے عاجزؔ تو کیوں مصروف ہے کون سنتا ہے ارے ناداں تری فریاد کو





