Iftikhar Ahmad Iqbal
qaus-e-quzah se Tuut ke har rang bah gayaa
قوس قزح سے ٹوٹ کے ہر رنگ بہہ گیا یہ ظلم بھی تو آسماں چپ چاپ سہہ گیا ہر درد بے کسک ہے ہر اک غم ہے اجنبی یارو ہمارا شہر میں اب کون رہ گیا ہر پھول آگ پھینک رہا ہے مری طرف بھولے سے آج میں کوئی حق بات کہہ گیا تنہائیوں نے پیار سے پھیلا دئے ہیں ہاتھ ہر لمحۂ فراق دھواں بن کے رہ گیا اقبالؔ فکر نو کے سمندر کے سامنے تنکے کی طرح قصر روایات بہہ گیا