Iftikhar Husain Rizwi Saeed
andalibon se kabhi gul se kabhi letaa huun
عندلیبوں سے کبھی گل سے کبھی لیتا ہوں عزم برداشت دم تشنہ لبی لیتا ہوں طنز کی سرد ہوائیں جو ستاتی ہیں مجھے شدت گرمیٔ احساس کو پی لیتا ہوں زندگی باقی بھی اپنوں میں گزر جائے گی اس لیے تلخئ حالات کو پی لیتا ہوں مجھ پہ سب لوگ گنہ ڈال دیا کرتے ہیں کس لیے کس کے لیے دریا دلی لیتا ہوں انکساری نے مجھے اتنی بلندی دی ہے بھول کر بھی نہ کبھی راہ خودی لیتا ہوں