
Ikram Azam
Ikram Azam
Ikram Azam
Ghazalغزل
نشاط نو کی طلب ہے نہ تازہ غم کا جگر سکوں گرفتہ کو کیسے ہو زیر و بم کا جگر اگرچہ تشنہ نگاہی مثال صحرا ہے نہیں ہے دست دعا کو ترے کرم کا جگر جگر کو عشق نے فولاد کر دیا ہے جب نہیں رہا ہے ستم کار کو ستم کا جگر ہے اضطراب جگر لہر لہر پر بھاری کہاں ہے بحر کو اس طرح پیچ و خم کا جگر یہ کام توپ تپنچے کے دائرے کا نہیں فتوح فکر و نظر تو ہے بس قلم کا جگر ہمارے ماتھے میں رکھ دی ہے داس کی سی سرشت اسے خدا نے دیا ہے کسی صنم کا جگر ہماری چاہ میں روئی ہے زندگی اتنا کہ پانی پانی ہوا جا رہا ہے سم کا جگر جگر کا دم ہے کہ گرد زمیں سے ٹوٹتا ہے اگرچہ توڑ نہ پایا فلک بھی دم کا جگر بس اعظمؔ آج تو حد ہی خمار نے کر دی کہیں سے گھول کے لے آؤ طیر رم کا جگر
nashaat-e-nau ki talab hai na taaza gham kaa jigar
پہلے تو آتی تھیں عیدیں بھی تمہارے آئے خیریت اب کے تم آئے تو اکیلے آئے تیری بے ساختہ حیرانی کہاں ہے اے دوست ہم تو آتش کہیں ایندھن کے عوض دے آئے اب تو رہزن ہی کوئی روکے تو معلوم پڑے رہنما کیسے اجاڑوں میں ہمیں لے آئے ہم تو یک رنگ اجالے سے ہی مسحور رہے روشنی تجھ میں یہ ست رنگ کہاں سے آئے ہم نے بیچی تھیں جہاں نیندیں اسی منڈی سے تیری آنکھوں کے لیے خواب سہانے آئے
pahle to aati thiin iidein bhi tumhaare aae
ضبط نے بھینچا تو اعصاب کی چیخیں نکلیں حوصلہ ٹوٹا تو احباب کی چیخیں نکلیں وحشتیں ایسی المناک نتائج میں ملیں جن کے امکان پہ اسباب کی چیخیں نکلیں اس سے فرعون کے اخلاق نے مانگی ہے پناہ اس سے شداد کے آداب کی چیخیں نکلیں ڈوبنے والے نے کس عشق سے تن پیش کیا شدت وصل سے گرداب کی چیخیں نکلیں ایسے گفتار نے کردار کی خلعت نوچی ماتھے لکھے ہوئے القاب کی چیخیں نکلیں جو نہ لائی گئی اس تاب کی چیخیں نکلیں منہ پہ پڑتے ہوئے تیزاب کی چیخیں نکلیں لفظ ابھرے تو سماوات کے کنگرے ڈولے اور جب ڈوبے تو محراب کی چیخیں نکلیں
zabt ne bhinchaa to aasaab ki chikhein niklin
ہر راحت جاں لمحے سے افتاد کی ضد ہے بیداد زمانہ بھی کسی داد کی ضد ہے ہر خیر کسی شر سے بقا یاب ہوئی ہے یہ حسن تعادل بھی تو اضداد کی ضد ہے اب آنکھیں بھلا کس طرح تقسیم کرے ماں دیواریں کھڑی کرنا تو اولاد کی ضد ہے گریہ نہیں معقول بیاد کس رفتہ لیکن یہ تماشا دل ناشاد کی ضد ہے میں راستہ بھولا ہوا پیادہ ہوں مجھے کیا رہبر کو اگر جادۂ برباد کی ضد ہے میں خود سے نبھانے کا روادار نہیں تھا یہ پہلی محبت مرے ہم زاد کی ضد ہے ہیں فکر کے آثار خداؤں کی جبیں پر اک ابد زیاں کار کو الحاد کی ضد ہے
har raahat-e-jaan lamhe se uftaad ki zid hai
لے چلے ہو تو کہیں دور ہی لے جانا مجھے مت کسی بسری ہوئی یاد سے ٹکرانا مجھے میں تو اس میں بھی بہت خوش ہوں ترا نام تو ہے ایک جرعہ بھی ترے نام کا مے خانہ مجھے آج دانستہ تغافل سے ہوں ہارا ہوا میں کل تلک عمر کی سچائی تھی افسانہ مجھے تو نے بھی مان لیا لوگوں کا پھیلایا سچ تو نے بھی جاتے ہوئے لوٹ کے دیکھا نہ مجھے علم کے طور پہ سیکھے ہیں محبت کے رموز تم بنا سوچے ہی کہہ جاتے ہو دیوانہ مجھے آ مری جان کے دشمن تری تادیب کروں تیرا ہر وار لگا غیر دلیرانہ مجھے اب مجھے تو ہی بتا دونوں میں کیوں تجھ کو چنوں تو نے رکھا نہ مجھے درد نے چھوڑا نہ مجھے
le chale ho to kahin duur hi le jaanaa mujhe





