Ikram
Ikram
Ikram
Ghazalغزل
vahshat si barasne lagi divaar se dar se
وحشت سی برسنے لگی دیوار سے در سے صحرا کی حدیں ایسے ملی ہیں مرے گھر سے پتھرانے لگیں راستہ تکتی ہوئی آنکھیں ان کے لئے جو لوٹ کے آئے نہ سفر سے ہر راہ میں بکھرے تھے تری یاد کے سائے میں دھوپ میں کیا چھاؤں طلب کرتا شجر سے آنکھوں میں جدائی کی سسکتی ہوئی گھڑیاں میں بھانپ گیا تھا ترے انداز نظر سے اب بے ہنری باعث توقیر ہوئی ہے بیگانہ ہوئے جاتے ہیں اب لوگ ہنر سے یہ رسم وراثت میں ملی ہے مجھے سرشارؔ میں جھک کے نہیں ملتا ہوں ارباب نظر سے
pahle main dhuup paanv tale raund kar gayaa
پہلے میں دھوپ پاؤں تلے روند کر گیا پھر راستے میں اپنے ہی سائے سے ڈر گیا یا اپنے سر کی خیر منا ورنہ جھوٹ بول حق بات جس نے کی ہے یہاں دار پر گیا یہ کیسے موسموں کا اثر آ گیا کہ اب چہرے سے رنگ اور دعا سے اثر گیا چلتا نہ تھا زمیں کی طرف دیکھ کر جو کل ٹھوکر لگی کچھ ایسی کہ نشہ اتر گیا سرشارؔ اب پتنگ اڑانے سے فائدہ سرشارؔ اب بسنت کا موسم گزر گیا
zarra milaa to dasht kaa ham-sar lagaa mujhe
ذرہ ملا تو دشت کا ہمسر لگا مجھے قطرہ ملا تو وہ بھی سمندر لگا مجھے پاگل ہوا نے چہرے کو زخمی سا کر دیا آئینہ دیکھتے ہوئے کل ڈر لگا مجھے شاخ گلاب ہوں نہ میں زیتون کی قلم آنگن میں اپنے سوچ سمجھ کر لگا مجھے جھلسا دیا ہے مجھ کو حوادث کی آگ نے اے چارہ ساز برف کے اندر لگا مجھے مقتل میں جب کسی کے بھی کاندھے پہ سر نہ تھا جو سر بریدہ شخص تھا ہمسر لگا مجھے سرشارؔ وہ چراغ جو آندھی کی زد پہ تھا بجھ کر بھی روشنی کا پیمبر لگا مجھے
main tap-e-ishq mein baa-dida-e-tar jaaungaa
میں تپ عشق میں با دیدۂ تر جاؤں گا آگ کا بھی ہو سمندر تو گزر جاؤں گا میں اندھیروں سے کرن بن کے گزر جاؤں گا اوس بن کر مَیں رگ گل میں اتر جاؤں گا میری حیرت ہی اڑائے گی تمسخر میرا آئنے سامنے آئیں گے جدھر جاؤں گا تم جہاں مجھ پہ عنایت کی نظر ڈالو گے میں وہیں صفحۂ ہستی پہ ابھر جاؤں گا کبھی روؤں گا میں سایوں سے لپٹ کر سرشارؔ اور کبھی اپنی ہی پرچھائیں سے ڈر جاؤں گا
mere jazbon kaa vo me'yaar nahin ho saktaa
میرے جذبوں کا وہ معیار نہیں ہو سکتا عکس پانی میں گرفتار نہیں ہو سکتا یہ تو ہم ایسے مسافر یہاں آئے تھے کبھی ورنہ صحرا کبھی گلزار نہیں ہو سکتا میں محبت ہوں محبت ہی عبادت ہے مری میں کسی سے کبھی بیزار نہیں ہو سکتا تیرے بارے میں مری اپنی بھی رائے ہے کوئی اور اس رائے سے انکار نہیں ہو سکتا جس کو رستے کا پتہ ہو نہ ہو منزل کا سراغ وہ کبھی قافلہ سالار نہیں ہو سکتا وہ جو حق بات سر دار نہیں کہہ پایا اور ہوگا کوئی سرشارؔ نہیں ہو سکتا





