Ikramullah Khan Azhar
Ikramullah Khan Azhar
Ikramullah Khan Azhar
Ghazalغزل
kyon bhalaa DhunDte jaaun tire raste jaanaan
کیوں بھلا ڈھونڈتے جاؤں ترے رستے جاناں تو رگ جاں سے بھی نزدیک ہے میرے جاناں بے وفائی کی بھلا مجھ سے شکایت کیسی تو نے خود خود پہ لگائے ہیں یہ پہرے جاناں دل پہ سو بار رفو اور رفو کیا معنی زخم اتنے تو نہ تھے دل کے یہ گہرے جاناں میں تو کل بھی تھا وہی آج وہی کل بھی وہی لوگ چہرے پہ لگا لیتے ہیں چہرے جاناں کچھ نئے ہیں تو نہیں میرے مراسم اس سے تھے ازل ہی سے تعلق مرے گہرے جاناں
tanz ke patthar musalsal ham pe barsaate rahe
طنز کے پتھر مسلسل ہم پہ برساتے رہے کچھ کرم احباب اپنے یوں بھی فرماتے رہے عشق کا الزام تنہا کیوں رہے میرے ہی سر دم بہ دم تم بھی تو میری راہ میں آتے رہے شور میں آواز ان کی کوئی بھی سنتا نہ تھا بھیڑ میں کتنے گداگر ہاتھ پھیلاتے رہے آپ نے شاید ہمارا حوصلہ دیکھا نہیں زخم کھا کر دوستوں پر پھول برساتے رہے غیر ممکن تھا زمانے میں مرے دل کا علاج جانے کیا کیا کہہ کے ہم کو لوگ بہلاتے رہے اس کی یادوں سے سجائی اپنی بزم آرزو دل کو تنہائی میں اظہرؔ یوں بھی بہلاتے رہے
qayaamat ki taDap gham intihaa kaa
قیامت کی تڑپ غم انتہا کا صلہ ہم کو ملا ہے یہ وفا کا بھرم ٹوٹا نہیں میری انا کا ابھی تک فضل ہے اظہر خدا کا ہمیں پھر خوف کیا روز جزا کا وسیلہ ہے محمد مصطفیٰ کا سنبھل کر کیجئے گا گفتگو بھی مخالف آج کل ہے رخ ہوا کا مزہ آنے لگا ہے درد دل میں اثر شاید ہے یہ میری دعا کا کوئی خائف نہ اس کو کر سکے گا جو دامن تھام لے مشکل کشا کا جہاں سچ بولنا ہے جرم اظہرؔ وہاں کیا کام ہے اہل صفا کا
mere hone kaa tamaashaa nahin hone detaa
میرے ہونے کا تماشا نہیں ہونے دیتا ظرف دھیما مرا لہجہ نہیں ہونے دیتا جھیل کی طرح مجھے قید کیا ہے اس نے میرے جذبات کو دریا نہیں ہونے دیتا استعانت وہ بہرحال کیا کرتا ہے میرا مالک مجھے رسوا نہیں ہونے دیتا میری عادت ہے کہ پوشیدہ مدد کرتا ہوں اپنے ہمسائے کو رسوا نہیں ہونے دیتا نت نئے درد دیا کرتا ہے دلبر مجھ کو غم دنیا کو اکیلا نہیں ہونے دیتا جس کو پالا کہ بڑھاپے کی بنے گا لاٹھی خود کا بیٹا یہ سہارا نہیں ہونے دیتا ڈال دیتا ہے وہ رشتوں میں دراڑیں اظہرؔ بھائیوں کو کبھی یکجا نہیں ہونے دیتا





