SHAWORDS
Iliyas Rahat

Iliyas Rahat

Iliyas Rahat

Iliyas Rahat

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

مدتوں میں جب ملے تو پاس آ کر رو پڑے کھل اٹھے تھے وہ اچانک مسکرا کر رو پڑے ان سے پوچھا میں نے جب ترک تعلق کا سبب وہ مجھے ہیروں جڑے کنگن دکھا کر رو پڑے جو مری بربادیوں کی سازشیں کرتے رہے وہ فسادی کیوں مرا چھپر جلا کر رو پڑے تم سے کچھ کہنا ہے مجھ کو روز کہلاتے تھے وہ مل گئے تو بس لبوں کو کپکپا کر رو پڑے وقت رخصت تو کہا ہنس کر خدا حافظ مگر صبر کا جب باندھ ٹوٹا دور جا کر رو پڑے حال جب پوچھا تو راحتؔ ہو نہ پایا ضبط حال دفعتاً آنچل میں وہ چہرہ چھپا کر رو پڑے

muddaton mein jab mile to paas aa kar ro paDe

3 views

غزل · Ghazal

ہم کو آتا ہے جلا کر دیے گھر گھر رکھنا ہم نے سیکھا نہ بغل میں کبھی خنجر رکھنا یہ تو خوبی ہے کہ شیشوں سے محبت رکھو پھر بھی لازم ہے تمہیں ہاتھ میں پتھر رکھنا نوچ ڈالیں گی تجھے تیز عقابی نظریں دختر شرم لپیٹے ہوئے چادر رکھنا اب کہاں ہیں وہ قلندر کہاں ان کو ڈھونڈھیں جن کو آسان تھا کوزے میں سمندر رکھنا بس تمہارا ہے یہی آج اسے روشن رکھو کل کی خاطر نہ چراغوں کو بجھا کر رکھنا یہ میرا عزم سفر سرد نہ پڑ جائے کہیں تم مری راہ میں ہر دن نیا پتھر رکھنا شدت بھوک سے مر جانا گوارہ کر لو پر نہ احساں کسی کم ظرف کا سر پر رکھنا گھر بھی جاؤ جو اندھیروں میں کہیں تم راحتؔ پھر بھی نظروں میں تم اپنی مہ و اختر رکھنا

ham ko aataa hai jalaa kar diye ghar ghar rakhnaa

2 views

غزل · Ghazal

مری آنکھوں کے وہ ٹھہرے ہوئے پانی میں رہتے ہیں زمانہ بے ادب ہے میری نگرانی میں رہتے ہیں بسا لیتے ہیں جو آنکھوں میں سپنے آشیانوں کے ہمیشہ وہ پرندے ہی پریشانی میں رہتے ہیں گھٹا محتاج رہتی ہے تری آنکھوں کے کاجل کی ہنسی کے کارواں پھولوں کی افشانی میں رہتے ہیں میں چھوڑ آیا تھا آنکھیں منتظر ان کے دریچے میں ہمیشہ وہ اسی جرأت پہ حیرانی میں رہتے ہیں جھلک ہے غنچہ و گل کے لہو کی اس کی آنکھوں میں عجب مالی ہے جس کی ہم نگہبانی میں رہتے ہیں کھلی آنکھیں بھی ہوں ملنا سنبھل کر پھر بھی اے راحتؔ درندے بھی چھپے اب جسم انسانی میں رہتے ہیں

miri aankhon ke vo Thahre hue paani mein rahte hain

2 views

غزل · Ghazal

رہبروں میں سرپھرے ہیں آگہی میں کچھ نہیں راستوں میں حادثے ہیں زندگی میں کچھ نہیں اے مرے مونس تجھے اپنا کہوں تو کس طرح قربتوں میں فاصلے ہیں دوستی میں کچھ نہیں اپنی سوچوں کے بدل دو اب ہر اک انداز کو حوصلوں میں ولولے ہیں بے حسی میں کچھ نہیں نیک و بد میں فرق اب کیسے یہاں محسوس ہو پتھروں میں آئنے ہیں برتری میں کچھ نہیں تم جو ہو ہم راہ میرے زندگی کی راہ میں مرحلوں میں قمقمے ہیں تیرگی میں کچھ نہیں پیار کے رشتہ یہ راحت توڑ مت دینا کبھی رابطوں میں سلسلے ہیں برہمی میں کچھ نہیں

rahbaron mein sar-phire hain aagahi mein kuchh nahin

1 views

غزل · Ghazal

گلوں کے حسن زیبا پر پھبن محسوس ہوتی ہے تری پرچھائیں جب صحن چمن محسوس ہوتی ہے زمانہ نے ہمارے بیچ اتنی دوریاں رکھ دیں تمہیں گر سوچتا بھی ہوں تھکن محسوس ہوتی ہے ترے بخشے ہوئے زخموں کو لمحے بھر گئے لیکن ابھی تک دل کے پہلو میں دکھن محسوس ہوتی ہے بچھڑتے وقت مڑ مڑ دیکھنا بوجھل قدم رکھنا اسی منظر کی آنکھوں میں چبھن محسوس ہوتی ہے کسی طوفاں کی دستک چور دروازے پہ ہے شاید جبیں پر وقت کی پڑتی شکن محسوس ہوتی ہے لڑکپن میں کھلی آنکھوں سے جو تم نے دکھائے تھے انہیں خوابوں کی پلکوں میں جلن محسوس ہوتی ہے مرے پہلو سے تو اٹھ کر گئے تھے مدتیں گزریں تمہارے لمس کی اب بھی تپن محسوس ہوتی ہے مہک تیری اڑا کر لے گئے جھونکے تغافل کے بہاروں میں بھی سانسوں میں گھٹن محسوس ہوتی ہے نہیں معلوم راحتؔ کتنے اندیشوں کا ہے قیدی وہ جس کو گھر میں رہ کر بھی تھکن محسوس ہوتی ہے

gulon ke husn-e-zebaa par phaban mahsus hoti hai

1 views

Similar Poets