Iltefat Amjadi
din ke lamhon mein mire dil ki sadaa hai koi
دن کے لمحوں میں مرے دل کی صدا ہے کوئی شب کی ظلمت میں تبسم کی ضیا ہے کوئی چلئے اچھا ہے مرے پیچھے پڑا ہے کوئی میرے بارے میں تو کچھ سوچ رہا ہے کوئی سانس لینے نہیں دیتی ہے مسائل کی چبھن زندگانی کی سزا کاٹ رہا ہے کوئی کیا تری آنکھ کی گہرائی میں شعلے ہیں نہاں کس طرح جھیل کے پانی سے جلا ہے کوئی التفاتؔ اس کی جبیں پر ہے تقدس کی چمک جب سے کردار کے سانچے میں ڈھلا ہے کوئی