Imdad Nizaamii
Imdad Nizaamii
Imdad Nizaamii
Ghazalغزل
raat charaagh ki mahfil mein shaamil ek zamaana thaa
رات چراغ کی محفل میں شامل ایک زمانہ تھا لیکن ساتھ میں جلنے والی رات تھی یا پروانہ تھا خضر نہیں رہزن ہی ہوگا راہ میں جس نے لوٹ لیا لیکن یارو شک ہوتا ہے کچھ جانا پہچانا تھا شب بھر جس روداد الم پر اشک بہاتے گزری تھی صبح ہوئی تو ہم نے جانا اپنا ہی افسانہ تھا کون ہمارے درد کو سمجھا کس نے غم میں ساتھ دیا کہنے کو تو ساتھ ہمارے تم کیا ایک زمانہ تھا لوگ اسے جو چاہیں کہہ لیں اپنا تو یہ حال رہا صرف انہیں سے زخم ملے ہیں جن سے کچھ یارانہ تھا مصلحتوں کی اس بستی میں لب کھلتے یہ تاب نہ تھی وضع جنوں کی بات نہ پوچھو وہ بھی ایک بہانہ تھا تلخئ غم پہنچے تھے بھلانے سود و زیاں میں الجھے ہیں بادہ فروشوں کی منڈی تھی نام مگر مے خانہ تھا جن کی خاطر ہم نے اپنا ذوق طلب بدنام کیا آج وہی کہتے ہیں ہنس کر شاعر تھا دیوانہ تھا
kaanTon mein hi kuchh zarf-e-samaaat nazar aae
کانٹوں میں ہی کچھ ظرف سماعت نظر آئے گلشن میں کہیں تو میری روداد سنی جائے اس کارگہ شیشہ میں آئینہ ہوں میں بھی چہرہ نہیں کوئی تو کوئی سنگ ہی آئے گلگشت کا اب ذوق نہ کچھ قدر بہاراں اک عمر سے ہوں زخموں کا گل زار سجائے منزل کا ہے امکاں نہ کوئی ختم سفر کا اس آبلہ پائی کو کوئی نام دیا جائے اس وادی کہسار میں پتھر ہی نہیں ہیں ہے اور بہت کچھ بھی کسی کو تو نظر آئے ہاں تیز بہت تیز ہے اب وقت کی رفتار اس دل کا کروں کیا کہ جو چل پائے نہ رک پائے تانبے سی زمیں اور سوا نیزے پہ سورج تقدیر نے یوں حشر کے آثار دکھائے اک گرد مسافت تھی جو چہرے سے نہ اتری ویسے تو یہاں ہم نے کئی شہر بسائے امدادؔ نظامی نہ سخنور تھے نہ شاعر کچھ زخم امانت تھے کسی کی وہی لے آئے





