SHAWORDS
I

Imran Ali Khan Imran

Imran Ali Khan Imran

Imran Ali Khan Imran

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

تلاش رزق میں جس نے ذرا اچھا برا سمجھا تو پھر اس نے حقیقت میں خدا کو بھی خدا سمجھا وہ خلوت میں وہ جلوت میں کہاں اس سے چھپے گا تو اگر تو یہ نہیں سمجھا بتا دے پھر کہ کیا سمجھا ہمارا خون شامل ہے وطن کے ذرے ذرے میں مگر افسوس کہ اہل وطن نے بے وفا سمجھا بیان حسن شاعر کے تخیل کا کرشمہ ہے کبھی زلفوں کو وہ ناگن کبھی کالی گھٹا سمجھا گنوا دی جان عمراںؔ نے ہے جس کی جان کی خاطر وہ اس کی موت کو پھر بھی فقط اک حادثہ سمجھا

talaash-e-rizq mein jis ne zaraa achchhaa buraa samjhaa

غزل · Ghazal

وہ ایک شخص جو اتنا اداس لگتا ہے نہ جانے کیوں وہ مرے دل کے پاس لگتا ہے چمن میں رنگ فضاؤں نے جب سے ہے بدلا ہر ایک چہرے پہ خوف و ہراس لگتا ہے یوں غور‌ و فکر کے دریا میں پی چکا پھر بھی مرا وجود کیوں صدیوں کی پیاس لگتا ہے مرا رفیق بھی اب جا ملا رقیبوں سے بہت ذہین ہے موقع شناس لگتا ہے دھڑکنے دل جو لگا بیکلی سی ہے طاری جگر کے کونے میں ان کا نواس لگتا ہے خبر ہے گرم کہ محفل میں وہ بھی آئیں گے یقین کم ہے زیادہ قیاس لگتا ہے ہو روح کھوکھلی تاریک ہو ضمیر اگر بدن بھی دیکھیے خالی گلاس لگتا ہے برہنہ کون نہیں ہے یہاں پہ اے عمرانؔ اگرچہ جسم پہ سب کے لباس لگتا ہے

vo ek shakhs jo itnaa udaas lagtaa hai

غزل · Ghazal

کوئی پرواہ نہیں ہے کہ وہ سر کاٹیں گے ہم محبت سے ہی نفرت کا اثر کاٹیں گے عزم فرہاد نے اوزار سے کاٹا تھا پہاڑ ہم رگ گل سے بھی پتھر کا جگر کاٹیں گے لوگ احسان کو احسان سمجھتے کب ہیں جس کے سائے میں پلیں گے وہ شجر کاٹیں گے پھر ترے آنے کی امید صبح جاگے گی پھر تری یاد میں ہم آٹھ پہر کاٹیں گے آپ نے اڑنا کبھی جس کو سکھایا عمرانؔ لکھ رکھیں یہ کہ وہی آپ کے پر کاٹیں گے

koi parvaah nahin hai ki vo sar kaaTeinge

Similar Poets