SHAWORDS
Imran Nazeer Maani

Imran Nazeer Maani

Imran Nazeer Maani

Imran Nazeer Maani

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

حسن ایسا ہے کہ تفصیل بھی کم پڑ جائے چاند کا عکس بنے جھیل بھی کم پڑ جائے مختصر عمر مگر خواہشیں اتنی ہیں کہ بس عمرو عیار کی زنبیل بھی کم پڑ جائے میں جو لگ جاؤں سنانے تجھے پردیس کے دکھ سال دو سال کی تعطیل بھی کم پڑ جائے یار تو خیر سبھی کوفیوں جیسے ہیں مگر بھائی ایسے ہیں کہ قابیل بھی کم پڑ جائے میرے جگنو تو کہاں تک اسے روشن کرے گا اس سیہ رات میں قندیل بھی کم پڑ جائے چاندنی رات وہ آ جائے سر بام اگر چاند سے نور کی ترسیل بھی کم پڑ جائے آیت عشق کا انکار کیا ہے جس نے ایسے منکر کو تو انجیل بھی کم پڑ جائے

husn aisaa hai ki tafsil bhi kam paD jaae

غزل · Ghazal

مکمل ضبط بھی کر لیں تو یہ صدمے نہیں جاتے کہ تجھ سے اب ہمارے راز بھی رکھے نہیں جاتے ہمارے سر کی تہمت ہے تمہارے پیر کے چھالے ہمارے گھر کو کوئی راستے کچے نہیں جاتے شکستہ عشق کی یادیں چلو اب دفن کرتے ہیں جنازے گھر میں اتنی دیر تک رکھے نہیں جاتے ہمارا دل بھی اس اجڑے ہوئے مسکن کے جیسا ہے گلی کے جس گھروندے میں کبھی بچے نہیں جاتے یقیں مانو اسے کافی سلیقہ ہے محبت کا کہ ہم پتھر دلوں والے یوںہی پگھلے نہیں جاتے تو یہ سادہ دلی لے کر کبھی بھی عشق مت کرنا کہ پتے کھیلنے ہرگز کبھی اندھے نہیں جاتے

mukammal zabt bhi kar lein to ye sadme nahin jaate

غزل · Ghazal

دشت میں تنہا ہوں لیکن روح آسانی میں ہے سوچتا ہوں کس قدر تسکین ویرانی میں ہے جس تسلسل سے ہمارے اشک بہتے ہیں یہاں آنکھ میں پانی ہے یا پھر آنکھ ہی پانی میں ہے اب ہمارے بخت روشن کر نہیں سکتا کوئی ہاں مگر اک روشنی جو اس کی پیشانی میں ہے سب میسر ہے مگر دل پر عجب سا بوجھ ہے لگ رہا ہے آج جیسے وہ پریشانی میں ہے کس طرح نکلا بھنور سے کس طرح پہنچا یہاں آج تک اس پار کا ہر شخص حیرانی میں ہے

dasht mein tanhaa huun lekin ruuh aasaani mein hai

غزل · Ghazal

سوچنے والوں کے سب افکار گونگے ہو گئے قتل میرا جب ہوا اخبار گونگے ہو گئے جس نے بھی لکھا امیر شہر کو مجرم یہاں اس کہانی کے سبھی کردار گونگے ہو گئے اس قبیلے سے بغاوت کس طرح کرتا کوئی اس جگہ تو ماہر گفتار گونگے ہو گئے اس کی سسکی کی گواہی گھر کی ہر اک شے نے دی میری چیخوں پر در و دیوار گونگے ہو گئے ایک دن اس نے کہا مانیؔ سنا کوئی غزل کیا بتاؤں یار سب اشعار گونگے ہو گئے

sochne vaalon ke sab afkaar gunge ho gae

غزل · Ghazal

کونسی وحشت تھی طاری اس گھڑی معمار پر خوف کے چھینٹے پڑے ہیں ہر در و دیوار پر یہ تو سن رکھا تھا تیزی سے بدل جاتا ہے وقت ہاں مگر حیران ہوں میں آپ کی رفتار پر جس طرح میت پہ بیٹھی رو رہی ہوں عورتیں بین کرتا ہوں میں ایسے ہجر کے آزار پر کیا کہانی میں کوئی مجھ سے بھی بہتر آ گیا کس لیے انگلی اٹھاتے ہو مرے کردار پر اب کہاں وہ دوستوں کے ساتھ ہر سو گھومنا اب اگر جائیں بھی گاؤں تو کسی تہوار پر خاک اس کو شاعری میں بات سمجھاؤں کوئی داد تک جو دے نہیں سکتا مرے اشعار پر

kaun-si vahshat thi taari us ghaDi me'maar par

غزل · Ghazal

کس لیے صفحہ دکھاتے ہو ہمیں اخبار کا شہر سارا آشنا ہے آپ کے کردار کا آخری میسج میں اس نے بے بسی سے یہ لکھا بیٹیاں تو رکھتی آئیں ہیں بھرم دستار کا ہائے یہ آنکھیں تھکن سے چور دیکھو تو سہی تم مسیحا ہو سمجھتے ہو نا دکھ بیمار کا کب ہنر سیکھو گے تم چہرے کو پڑھنے کا میاں ہر جگہ مطلب نہیں ہوتا نہیں انکار کا ہاتھ پکڑو تم مرا چلتے ہیں لمبی واک پر رنگ اڑتا ہے تو اڑ جائے بھلے دو چار کا

kis liye safha dikhaate ho hamein akhbaar kaa

Similar Poets