SHAWORDS
Imrana Mushtaq Mani

Imrana Mushtaq Mani

Imrana Mushtaq Mani

Imrana Mushtaq Mani

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

چلی جو خود سے کبھی ہو کے بد گمان ہوا بکھر کے رہ گئی گلیوں کے درمیان ہوا عجب نہیں کہ دئے سے شکست کھا کے بھی چراغ پا نہ ہوئی اب کے بد زبان ہوا گزشتہ رات کی دہلیز پر سسکتے ہوئے سنا رہی تھی ہواؤں کو داستان ہوا ہوائیں باندھ رہا تھا جو ایک مدت سے پھر ایک روز وہی ہو گیا مکان ہوا نہ جانے دھارے کسی وقت روپ آندھی کا نشان چھوڑ نہ جائے یہ بے نشان ہوا اب ایسا لگتا ہے ساحل سے آ لگیں گے ہم اڑا کے لے گئی اپنا تو بادبان ہوا مجھے یقین ہے ایک روز میرے آنگن میں بکھیر جائے گی خوشبوئے زعفران ہوا

chali jo khud se kabhi ho ke bad-gumaan havaa

غزل · Ghazal

آ گیا وقت اگر پیار میں رسوائی کا لوگ دیکھیں گے تماشا ترے سودائی کا روح سے جسم الگ کرنے کے پس منظر میں ہے کوئی ہاتھ یقیناً کسی ہرجائی کا جاں غم وصل کی اک شام منائیں آ جا شور سنتی ہوں سسکتی ہوئی شہنائی کا میں ترے پیار کو دنیا سے چھپاؤں کیسے رنگ آنکھوں سے برستا ہے شناسائی کا خیر ہو آج مرے دل کے بیابانوں کی مانیؔ کرنا نہیں ماتم شب تنہائی کا

aa gayaa vaqt agar pyaar mein rusvaai kaa

غزل · Ghazal

ٹوٹے ہیں جب سے زور جنوں کی طناب کے حسرت سے دیکھتی ہوں یہ خیمے شباب کے اے دل نہ چھیڑ ذکر اسی خوش خرام کا میں پی چکی ہوں گھول کے شعلے گلاب کے زندان بزم شوق میں ایسے بھی رند ہیں تشنہ رہے جو پی کے سمندر شراب کے یہ بزم چشم و لب ہے مری جاں ابھی نہ جا بڑھنے دے رابطے یہ سوال و جواب کے مانیؔ نہ آج پوچھ وہ کیسے بدل گئے راہ جنوں میں نقش قدم ہیں جناب کے

TuuTe hain jab se zor junun ki tanaab ke

غزل · Ghazal

کرب کے صحرا سے گزرا جب بھی دیوانہ کوئی مسکرایا شاخ نازک پر چمن خانہ کوئی موسم برسات ہے اور وجد میں ہیں لالہ زار دشمنوں کے وار سے چھلکا ہے پیمانہ کوئی رات بھر روتی رہی بے سود شمع آرزو جب سر محفل چلا آیا ہے پروانہ کوئی اجنبی بستی کے لوگوں سے ذرا نظریں ملا مل ہی جائے گا یہاں بھی جانا پہچانا کوئی اے دل مانیؔ یوں ہی منزل کبھی ملتی نہیں راہ الفت میں دیا کرتے ہیں نذرانہ کوئی

karb ke sahraa se guzraa jab bhi divaana koi

غزل · Ghazal

عنوان ہزاروں ہیں غزل کوئی نہیں ہے جھیلوں کے مناظر میں کنول کوئی نہیں ہے اے کاش کوئی دیکھے مرے ضبط کا عالم بے کل ہوں مگر ماتھے پہ بل کوئی نہیں ہے ہر چند کے ہم لوگ ہیں فردوس کے خالق دنیا میں مگر اپنا محل کوئی نہیں ہے حق بات کہو جب بھی کہو جان تمنا یہ بات ہے وہ جس کا بدل کوئی نہیں ہے حالات کی دلدل میں دھنسی جاتی ہے مانیؔ اب ساکت و جامد ہے عمل کوئی نہیں ہے

'unvaan hazaaron hain ghazal koi nahin hai

غزل · Ghazal

وفا جب زندہ ہوتی ہے جفا دم توڑ دیتی ہے ستم گر کی ہر اک ظالم ادا دم توڑ دیتی ہے تکبر کی فصیلوں سے کبھی ہم رک نہیں سکتے کہ بچ کے روبرو جھوٹی انا دم توڑ دیتی ہے اگر مظلوم ٹکراتے ہیں دیوار مظالم سے تو گر جاتا ہے زنداں اور سرا دم توڑ دیتی ہے ثبوت بے گناہی کیوں نہ ہو میری گنہ گاری عطا کرتا ہے جب کوئی خطا دم توڑ دیتی ہے چمن کی آبیاری خون سے کرتی رہو مانیؔ چمن کے خشک ہونے سے صبا دم توڑ دیتی ہے

vafaa jab zinda hoti hai jafaa dam toD deti hai

Similar Poets