SHAWORDS
Imtiyaz Nadeem

Imtiyaz Nadeem

Imtiyaz Nadeem

Imtiyaz Nadeem

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

اپنی گفتار کا جادو کبھی چلتا دیکھوں اس کے انکار کو اقرار میں ڈھلتا دیکھوں اس کا آنا ہے قیامت تو قیامت ہی سہی آج خورشید کو مغرب سے نکلتا دیکھوں اس سے پہلے مری آنکھوں کی بصارت چھن جائے کسی دشمن کو بھی میں آگ میں جلتا دیکھوں کاش ایسی بھی کوئی عید مرے گھر آئے اپنے بچوں کو مسرت سے اچھلتا دیکھوں ایک پل کے لئے مجھ سے بھی مخاطب ہو جا میں بھی اس دل کو ذرا دیر بہلتا دیکھوں میری آغوش محبت میں کبھی تو آئے گرمیٔ شوق سے میں تجھ کو پگھلتا دیکھوں معرفت کے لئے کافی ہے مرا اپنا وجود کیا ضروری ہے کہ ہنگامۂ دنیا دیکھوں درد دل اس لئے خاموش سہے جاتا ہوں یہ گوارا نہیں مجھ کو تجھے رسوا دیکھوں شہر آذر میں کروں آئنہ سازی جو ندیمؔ اپنا چہرہ کئی چہروں میں بدلتا دیکھوں

apni guftaar kaa jaadu kabhi chaltaa dekhun

غزل · Ghazal

وہ مری چاہت نہ وہ ان کی ادائیں رہ گئیں ذہن میں کچھ خوب صورت کلپنائیں رہ گئیں جس قدر فانوس تھے نذر حوادث ہو گئے اب چراغوں کی حفاظت میں ہوائیں رہ گئیں اپنی بربادی کا افسانہ سنانے کے لئے چند سوکھی ڈالیاں کچھ فاختائیں رہ گئیں چشم و ابرو عارض و لب عشوہ و ناز و ادا اک مرے دل کے لئے ساری بلائیں رہ گئیں مال و زر تو بھائیوں نے کر لئے تقسیم سب میرے حصے میں فقط ماں کی دعائیں رہ گئیں ٹوٹتے جاتے ہیں رشتے دھرم اور وشواس کے بس نمائش کے لئے اب آستھائیں رہ گئیں لائق اعزاز گردانے گئے اہل جفا سرد بستے میں مری ساری وفائیں رہ گئیں کون سنتا ہے یہاں حرف بصیرت اے ندیمؔ دل کی باتیں ہو کے گنبد کی صدائیں رہ گئیں

vo miri chaahat na vo un ki adaaein rah gaiin

غزل · Ghazal

اہل حق کی باتوں سے جو نظر چرائے گا وقت ایک دن اس کو آئنہ دکھائے گا جسم کا ہر اک حصہ خوشبوئیں بکھیرے گا لمس میری سانسوں کا جب اثر دکھائے گا فصل گل کی آمد ہے چاک ہوں گے پھر دامن پھر جنوں کی وادی کا راستہ بلائے گا خون آرزو اپنا نذر گلستاں کر دو تب گلوں کے چہرے پر کچھ نکھار آئے گا اقتدار و منصب کی جنگ روز جاری ہے کون قدر انساں کی فصل اب اگائے گا حرکت و عمل میں ہیں کامرانیاں مضمر منزلیں اسی کی ہیں جو قدم بڑھائے گا تم بھی ڈوب جاؤ گے خوش گوار یادوں میں جب کبھی غزل میری کوئی گنگنائے گا ہے ندیمؔ کچھ ایسی داستان دل اپنی سن کے حسن روئے گا عشق مسکرائے گا

ahl-e-haq ki baaton se jo nazar churaaegaa

غزل · Ghazal

ہمارا قول و عمل آج معتبر بھی نہیں ہماری بات کا لوگوں پہ کچھ اثر بھی نہیں قدم بڑھا تو دئے ہیں تلاش منزل میں کوئی نشاں بھی نہیں کوئی راہبر بھی نہیں ابھی تو فکر تھی دستار ہی کے جانے کی پتہ چلا ہے کہ شانوں پہ اپنے سر بھی نہیں لگائے کس لئے تم نے یہ سنگ کے انبار ہمارے شہر میں تو کوئی شیشہ گر بھی نہیں یہ حکمرانی و سطوت ہمارا ورثہ ہیں اگرچہ شام بھی اپنی نہیں سحر بھی نہیں بتوں کے نام پہ اپنا وجود گم کر دیں ہم اپنی ذات سے اب اتنے بے خبر بھی نہیں یہ اور بات ہے دنیا شریف جانتی ہے ہمارے پاس شرافت تو نام بھر بھی نہیں فضا میں گھول دیا کس نے زہر خاموشی کوئی فغاں بھی نہیں کوئی شور و شر بھی نہیں سکون قلب میسر بھی ہو تو کیوں کر ہو کوئی خبر بھی نہیں کوئی نامہ بر بھی نہیں اڑان بھرنے کی خواہش تو ہے ندیمؔ بہت وہ حوصلہ بھی نہیں ہے وہ بال و پر بھی نہیں

hamaaraa qaul-o-amal aaj mo'atabar bhi nahin

غزل · Ghazal

راہ گم کردہ ہیں قدموں کے نشاں ہوتے ہوئے بے گھری کا درد سہتے ہیں مکاں ہوتے ہوئے کب تلک کرتے رہیں گے شکوۂ کم مائیگی اپنے قدموں میں زمین و آسماں ہوتے ہوئے ظلمتوں میں قید ہو کر رہ گئی ہے زندگی علم و فن کے نور کا سیل رواں ہوتے ہوئے بے زری کی دھند میں گم ہو گئی یہ زندگی دولت حسن و جمال زر فشاں ہوتے ہوئے راستوں کا جرم کیا ہے منزلوں کی کیا خطا قوم جب خود گم ہے میر کارواں ہوتے ہوئے موسموں کے رنگ کی پہچان بھی ہم کو نہیں منتظر پھولوں کے ہیں دور خزاں ہوتے ہوئے کیا کریں ہم بے کفن لاشوں کے اعداد و شمار عارض و لب کی سنہری داستاں ہوتے ہوئے اپنے ہاتھوں کے قلم بھی اب اگلتے ہیں لہو شہد لب حسن ادا طرز بیاں ہوتے ہوئے انحطاط ایسا کہ شرم آتی ہے اپنے آپ سے ہم زمیں پر ہیں نشان آسماں ہوتے ہوئے کیوں ہوں شرمندہ بھلا تہذیب کی قدریں ندیمؔ اپنے گھر میں دولت اردو زباں ہوتے ہوئے

raah-gum-karda hain qadmon ke nishaan hote hue

غزل · Ghazal

کب کہا ہم نے اسے بار گراں جانتے ہیں ہم تو غم کو ترے سرمایۂ جاں جانتے ہیں ابر زلفوں کو تو عارض کو سمجھتے ہیں گلاب تیر نظروں کو تو ابرو کو کماں جانتے ہیں ہیں وہی اصل میں میراث ادب کے وارث میرؔ و غالبؔ کا جو انداز بیاں جانتے ہیں وہ ہے میرے لیے آغاز سفر کی صورت جس کو ارباب خرد اپنا مکاں جانتے ہیں تشنہ لب رہ گئے ساحل پہ نہ جانے کتنے کس کے کام آیا ہے یہ آب رواں جانتے ہیں عظمت ارض وطن کیا ہے یہ ہم سے پوچھو اس کے ذروں کو بھی ہم کاہکشاں جانتے ہیں روز ڈھلتا ہے یہاں جام میں انساں کا لہو روز حق گوئی پہ کٹتی ہے زباں جانتے ہیں تنگیٔ زیست پہ گھبرا کے جو مر جاتے ہیں رحمت رب دو عالم وہ کہاں جانتے ہیں ہم سے پوچھے کوئی نیزے کی انی ہے کیا چیز سنگ کیا ہوتا ہے آئینہ گراں جانتے ہیں خامیٔ فکر ہے یا زعم بصیرت ہے ندیم نرم گیتوں کو بھی کچھ لوگ فغاں جانتے ہیں

kab kahaa ham ne ise baar-e-garaan jaante hain

Similar Poets