
Inam Thanvi
Inam Thanvi
Inam Thanvi
Ghazalغزل
jo hai kitaab-e-dil ke hasin iqtibaas mein
جو ہے کتاب دل کے حسیں اقتباس میں ہے تذکرہ اسی کا مری التماس میں آزاد ہے جو باغ وطن اور پر بہار شامل ہے میرا خون بھی اس کی اساس میں اس کا کوئی نصیب ہے جس کو خوشی میں بھی اک ابتلا ہے کلفت و امید و یاس میں کچھ ان میں آشنائے حقیقت بلا کے ہیں آتے ہیں جو نظر ہمیں سادہ لباس میں اس خاص تر اثر کا ہو انعامؔ کیا بیاں جو ہے نگاہ اہل دل و حق شناس میں
kyon mizaaj-e-zindagi maghmum saa hone lagaa
کیوں مزاج زندگی مغموم سا ہونے لگا ذوق لطف و سر خوشی معدوم سا ہونے لگا اب جو وہ رہنے لگا ہے وقف صد وارفتگی سانحہ کوئی نیا معلوم سا ہونے لگا زندگی بے جان سی جب سے نظر آنے لگی اپنا عالم نقطۂ موہوم سا ہونے لگا جو بہ فیض آگہی ابھرا ہے دل کے ساز پر وہ تخیل خود بخود منظوم سا ہونے لگا کل تھی عالم کی فضا عمدہ لطیف و خوشگوار آج ماحول جہاں مسموم سا ہونے لگا ہم نشیں ان کے تصور کی فسوں کاری نہ پوچھ دل پر اک شوق حسیں مرقوم سا ہونے لگا زندگی میں دو دلوں کا ربط باہم کیا ہوا تذکرہ کچھ لازم و ملزوم سا ہونے لگا زندگی انعامؔ دل کی تھی بہ فیض انبساط غم سے اب وہ مردہ و مرحوم سا ہونے لگا
laa'lin labon se ab vo gul-afshaan hue to hain
لعلیں لبوں سے اب وہ گل افشاں ہوئے تو ہیں فردوس گوش و لطف دل و جاں ہوئے تو ہیں حالات کچھ نئے سے نمایاں ہوئے تو ہیں پھر انقلاب زیست کے ساماں ہوئے تو ہیں صحن چمن میں لالہ و گل سرو و یاسمن جلوہ طراز فصل بہاراں ہوئے تو ہیں واقف نہ تھے جو گردش دوراں ہے چیز کیا اب آشنا وہ کیف بداماں ہوئے تو ہیں کل تک جو اہل عشق وفا پر تھے خندہ زن وہ خود بھی آج چاک گریباں ہوئے تو ہیں ان کو ہے برہمی مرے احساس عشق پر لیکن وہ منفعل کسی عنواں ہوئے تو ہیں انعامؔ زندگی کی کشاکش کے باوجود اس سخت دور میں بھی غزل خواں ہوئے تو ہیں
aap kaa ehtiraam kartaa huun
آپ کا احترام کرتا ہوں دل سے یہ اہتمام کرتا ہوں دل کو اپنے ترے تصور سے رشک ماہ تمام کرتا ہوں جبر غم کی یہ بندشیں توبہ خود کو پابند دام کرتا ہوں ہو بہ ہر نفس جذبۂ ایثار اس قرینے کو عام کرتا ہوں اس کا کوچہ ہے اس لیے انعامؔ طوف بیت الحرام کرتا ہوں
un ke husn-o-shabaab kaa 'aalam
ان کے حسن و شباب کا عالم لالہ ماہ و گلاب کا عالم ہے بڑے انتخاب کا عالم خوب تر آنجناب کا عالم طرفہ عالم وہ مصحف رخ کا جیسے حق کی کتاب کا عالم جلوۂ بزم عالم امکاں در حقیقت یہ خواب کا عالم نگہ مست یار کیا کہیے جیسے جام شراب کا عالم تم کو پانی جو آ رہا ہے نظر اصل میں اک سراب کا عالم ان کا عالم ہے یوں پئے عاشق جیسے عزت مآب کا عالم کس قدر ہے دل و نظر افروز آپ کے انتساب کا عالم ان کا روئے حسین اے انعامؔ جلوۂ ماہتاب کا عالم
kahin sukun kaa naam-o-nishaan nahin miltaa
کہیں سکون کا نام و نشاں نہیں ملتا تھکن ہے اتنی کہ آرام جاں نہیں ملتا رہ تلاش میں لازم ہے دیدہ ور ہونا نگاہ شوق کو جلوہ کہاں نہیں ملتا بجھے ہوئے ہیں ہر اک سو بصیرتوں کے چراغ کوئی بھی دیدہ ور و نکتہ داں نہیں ملتا کسی کی دید کا اک طرفہ سانحہ کہیے کہ ان کو دیکھ کے اپنا نشاں نہیں ملتا خبر ہی کیا انہیں انعامؔ رمز فطرت کی وہ جن کو بادۂ روحانیاں نہیں ملتا





