SHAWORDS
Inayat Ameen

Inayat Ameen

Inayat Ameen

Inayat Ameen

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

dilaasa dene neki ke farishte roz aate hain

دلاسہ دینے نیکی کے فرشتے روز آتے ہیں مری ٹوٹی ہوئی چھت پر پرندے روز آتے ہیں مری مجبوریوں نے باندھ رکھا ہے مجھے ورنہ مرے بچوں کے سپنوں میں کھلونے روز آتے ہیں تلاش رزق میں اکثر سیانے گاؤں کے لڑکے ہمارے شہر میں رکشا چلانے روز آتے ہیں طواف عشق کا ارمان لے کر آسمانوں سے ہمارے کعبۂ دل میں فرشتے روز آتے ہیں ہمارے گاؤں کے سرپنچ کو فرصت نہیں ملتی یہاں ہر پل میاں بیوی کے جھگڑے روز آتے ہیں اسے سمان میں سمجھوں یا پھر اپمان جیون کا مری راہوں میں بربادی کے کانٹے روز آتے ہیں امینؔ آواز دیتا ہے کوئی مجذوب گلیوں میں مسلمانوں کی بستی میں فرشتے روز آتے ہیں

غزل · Ghazal

bandagi mo'atabar chaahiye

بندگی معتبر چاہئے آپ کا سنگ در چاہئے ہر بھلی چیز اچھی نہیں آدمی میں نظر چاہئے درد دل زندگی بن گیا کس کو اب چارہ گر چاہئے ایک جھٹکے کا ہے یہ قفس جرأت بال و پر چاہئے کوئی منزل بھی مشکل نہیں عشق سا راہبر چاہئے شعر کہنا ہے آساں امینؔ شاعری میں ہنر چاہئے

غزل · Ghazal

bure insaan ko bad-kaari kaa mehvar khinch letaa hai

برے انساں کو بد کاری کا محور کھینچ لیتا ہے کہ جیسے تیسے دریا کو سمندر کھینچ لیتا ہے بھرے بازار میں اس شخص کو سنگسار کر دینا گلے سے اپنی بیوی کے جو زیور کھینچ لیتا ہے قدم میرے نکل پڑتے ہیں جب گمراہ رستوں پر مجھے قرآن کی جانب ترا در کھینچ لیتا ہے میں اپنے بیوی بچوں میں کہاں سے پیار بانٹوں گا لہو میرے بدن کا جبکہ دفتر کھینچ لیتا ہے مرے محبوب کی تحریر سے ہے کس قدر مانوس خطوں کے ڈھیر سے وہ خط کبوتر کھینچ لیتا ہے جہاں غربت بلکتی ہے جہاں معصوم روتے ہیں مری غزلوں کا شہزادہ وہ منظر کھینچ لیتا ہے جوانی تھی تو من مانی کا طوفاں تھا طبیعت میں بڑھاپے میں قدم رکھا تو بستر کھینچ لیتا ہے امینؔ احساس تیرا ڈوبتا ہے جب تخیل میں سمندر کے کنارے ہی سے گوہر کھینچ لیتا ہے

Similar Poets