Indr Swarup Srivastava
ٹوٹا پھوٹا سہی احساس انا ہے مجھ میں ایسا لگتا ہے کوئی اور چھپا ہے مجھ میں کرچیاں شیشے کی پیکر میں نہاں ہیں میرے عکس در عکس کوئی سنگ نما ہے مجھ میں اب وہ شوریدہ سری ہے نہ وہ جذبوں کی صدا بس افق تا بہ افق ایک خلا ہے مجھ میں خواب در خواب مرا پھولوں کی وادی کا سفر آنکھ کھل جائے تو اک دشت بلا ہے مجھ میں سطوت جبر وہی رنگ کی دیوار وہی ایک احساس ہے جو مجھ سے سوا ہے مجھ میں ہر نفس میرا سلگتے ہوئے خوابوں کا دھواں آرزوؤں کا کوئی شہر جلا ہے مجھ میں سنتا رہتا ہوں میں مظلوم کی چیخیں بھی سروپؔ یا کہ پیکر کسی قاتل کا چبھا ہے مجھ میں
TuuTaa phuTaa sahi ehsaas-e-anaa hai mujh mein