SHAWORDS
Injeel Saheefa

Injeel Saheefa

Injeel Saheefa

Injeel Saheefa

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

سیپ مٹھی میں ہے آفاق بھی ہو سکتا ہے اور اگر چاہوں تو یہ خاک بھی ہو سکتا ہے یہ جو معصوم سا ڈر ہے کسی بچے جیسا ایسے حالات میں سفاک بھی ہو سکتا ہے آؤ اس تیسرے نکتے پہ بھی کچھ غور کریں ہم جسے جفت کہیں طاق بھی ہو سکتا ہے وجد میں رقص تو بے خوف کیا جاتا ہے ہو اگر عشق تو بے باک بھی ہو سکتا ہے ہجر ناسور ہے چپ چاپ ہی جھیلو اس کو آہ و زاری سے خطرناک بھی ہو سکتا ہے یہ جو سر سبز سا لگتا ہے امیدوں کا شجر رت بدلنے پہ یہ خاشاک بھی ہو سکتا ہے تو ابھی بھیج دے اس پار سے رحمت کوئی میں یہ سنتی ہوں کرم ڈاک بھی ہو سکتا ہے وہ جو کوسوں تجھے پھیلا ہوا آتا ہے نظر وہ سمندر مری پوشاک بھی ہو سکتا ہے یہ سیاہ بخت اسے ڈھونڈنے لگ جائیں اگر ان کو پھر نور کا ادراک بھی ہو سکتا ہے میں جو مٹی سے خدا اور بنانا چاہوں آسماں میرے لیے چاک بھی ہو سکتا ہے کیوں نا انجیلؔ دوبارہ سے اتاری جائے کوئی عیسائی کی طرح پاک بھی ہو سکتا ہے

siip muTThi mein hai aafaaq bhi ho saktaa hai

غزل · Ghazal

کوئی گا دے میٹھی لوری سجن میری بھر دے نین کٹوری سجن کبھی بھور سمے مرے ہاتھ پہ باندھ ترے ہاتھ پہ لپٹی ڈوری سجن وہی جس کا تن من چھائی سا تجھے چاند لگے وہی چھوری سجن کسی پیر فقیر کی کٹیا سے ملی دھن دولت کی بوری سجن میری اردو کے سب بول ترے تری ہندی بھاشا موری سجن میری چنری لیرم لیر ہوئی ہوا رنگ بسنتی چوری سجن ترے بھگوت گیتا اور قرآن ہوئی اب انجیلؔ بھی توری سجن

koi gaa de miThi lori sajan

غزل · Ghazal

مرا چہرا بھولا او ماہی پر روپ سنپولہ او ماہی تری تال‌ سے تال ملا بیٹھی مرا انگ انگ ڈولا او ماہی کوئی راکھ پتنگوں والی ہو جلے حسن کا شعلہ او ماہی مجھے بھیج نا اپنی بستی کا وہی اڑن کھٹولا او ماہی تری سندرتا پہ حیراں ہوں مجھے درپن بولا او ماہی میں نے بند کواڑ بھی کھول دئیے میں نے من بھی کھولا او ماہی مرے نین نین سب داسی سے مرا جوگی چولا او ماہی ترا لمس لہو میں دوڑا ہے تو نے زہر سا گھولا او ماہی تری پریت میں سدھ بدھ کھو بیٹھی ترے عشق نے رولا او ماہی مرے روپ سروپ کو پوجتا ہے تو ہے سانول ڈھولا او ماہی مجھے پریم کے اکھشر بھول گئے کوئی پندرہ سولہ او ماہی مرا ہار سنگھار بھی بے مطلب ترا دل بے مولا او ماہی مجھے گر ویوپار کے سکھلا دے ذرا ماشہ‌ تولا او ماہی

miraa chehraa bholaa o maahi

غزل · Ghazal

فضا میں رنگ سے بکھرے ہیں چاندنی ہوئی ہے کسی ستارے کی تتلی سے دوستی ہوئی ہے مری تمام ریاضت کا ایک حاصل ہے وہی دعا جو تیرے نام سے جڑی ہوئی ہے میں حادثے سے نکل آئی ہوں مگر دیکھو زمین اب بھی مرے جسم پر پڑی ہوئی ہے ابھی تو تو نے مرا ہاتھ بھی نہیں تھاما یہ کس خبر سے زمانے میں سنسنی ہوئی ہے اداسی جونک ہے یہ خون چوس لیتی ہے یہ بات میں نے کہیں اور بھی سنی ہوئی ہے میں تیرے لمس کے جادو سے خوب واقف ہوں وہ شاخ ہوں جو ترے ہاتھ پر ہری ہوئی ہے جو آنکھیں سینک رہے ہیں انہیں خبر ہی نہیں یہاں پہ خواب جلے ہیں تو روشنی ہوئی ہے میں لال رنگ لگاتی تھی نیلے خوابوں کو اسی لئے تو یہ تعبیر کاسنی ہوئی ہے وہ میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیا معلوم خدا سے میری ملاقات سرسری ہوئی ہے میں پچھلے سال کی تصویر بھیج دیتی تجھے مگر یہ ایک طرف سے ذرا جلی ہوئی ہے مزا تو جب ہے کہ انجیلؔ ہی لگے سب کو نزول عشق پہ جتنی بھی شاعری ہوئی ہے

fazaa mein rang se bikhre hain chaandni hui hai

غزل · Ghazal

مجھے سانسوں کی ہے تھوڑ پیا مرا ساتھ ابھی مت چھوڑ پیا کری منت زاری تر لے سب میں نے ہاتھ دئیے ہیں جوڑ پیا میری مانگ سندور سے خالی کر ہری چوڑی آ کر توڑ پیا کہیں پربت پار میں بس جاؤں جہاں دکھے نہ میرا کوڑھ پیا میں نے پگ پگ تیری بلائیں لیں میں نے پھونکے ورد کروڑ پیا میری آس کی سانس اکھڑتی ہے تو مکھ اپنا نہ موڑ پیا ترا ہجر وچھوڑا مار گیا لیا سارا لہو نچوڑ پیا میری آنکھیں رو رو خاک ہوئیں مرے اشک نہ ایسے روڑ پیا ترے سکے مجھ کو سونا ہیں چل ماٹی مٹکی پھوڑ پیا مرا حال دھمال ہے جوگن سا میں نے وجد لیا ہے اوڑھ پیا ہے یہ پریم جنم جنماتا کا مجھے سات جنم تری لوڑ پیا

mujhe saanson ki hai thoD piyaa

Similar Poets