Intizar Ghazipuri
Intizar Ghazipuri
Intizar Ghazipuri
Ghazalغزل
دل بھی پتھر سینہ پتھر آنکھ پہ پٹی رکھی ہے کس نے یہ پانی سے باہر ریت پہ مچھلی رکھی ہے مانا کہ تعمیر نہیں ہو پائی عمارت رندوں کی چاند پہ رکھنے والے کی بنیاد ابھی بھی رکھی ہے یہ بھی انوکھی بات ہے یارو مطلب کیسے سمجھا جائے املی کے کھٹے پانی پر شہد کی مکھی رکھی ہے کالے بادل کا رشتہ تو سورج سے نا ممکن ہے کالی لڑکی کے ہونٹوں پر رات کی رانی رکھی ہے کوشش تو ناکام رہی ہے ہمت لیکن رکھتا ہوں طاق میں دیپک کیسے جلے اب گھر میں آندھی رکھی ہے کیا بولے گا آج ترازو بھید ابھی کھل جائے گا اک پلڑے میں سچ رکھا ہے ایک میں چاندی رکھی ہے
dil bhi patthar siina patthar aankh pe paTTi rakkhi hai
نہ پوچھو دوستو میں کس طرح ہنستا ہنساتا ہوں توجہ یاد رکھتا ہوں تغافل بھول جاتا ہوں مجھے تو یاد ہے میں آج تک بھولا نہیں تجھ کو بتا بھولے سے تجھ کو بھی کبھی میں یاد آتا ہوں اگر ماضی بھلا بیٹھے تو اپنا حال کیا ہوگا کہانی رات بھر اہل چمن کو میں سناتا ہوں یہ کیا کم ہے کہ میرے دل میں پنہاں دولت غم ہے میں اکثر اپنی پلکوں کو ستاروں سے سجاتا ہوں دل وحشت زدہ کا انتظارؔ اب تو یہ عالم ہے کہ خود اپنا نشیمن اپنے ہاتھوں سے جلاتا ہوں
na puchho dosto main kis tarah hanstaa hansaataa huun
کہیں شبنم کہیں خوشبو کہیں تازہ کلی رکھنا پرانی ڈائری میں قید کر کے زندگی رکھنا غزل بھی روز بکتی ہے یہاں بازار میں لوگو حفاظت میں نہیں ممکن ہے فن شاعری رکھنا جو چالاکی سے پڑھ لو گے تو چہرہ سب بتا دے گا ملاؤ ہاتھ جب اس سے نظر چہرے پہ بھی رکھنا ذرا تم انتظارؔ خستہ جاں کا حوصلہ دیکھو اسے بھاتا ہے بارش میں لباس کاغذی رکھنا
kahin shabnam kahin khushbu kahin taaza kali rakhnaa
دنیا سے کون جاتا ہے اپنی خوشی کے ساتھ وابستہ ہو اگر نہ ازل زندگی کے ساتھ بس اتنی رسم و راہ ہے اس زندگی کے ساتھ اک اجنبی سفر میں ملا اجنبی کے ساتھ یوں دشمنی بھی چلتی ہے اب دوستی کے ساتھ جیسے اندھیرا رہتا ہے ہر روشنی کے ساتھ مل جائے مجھ کو خاک جو قدموں کی آپ کے دل کیا ہے میں تو جان بھی دے دوں خوشی کے ساتھ کیا تجھ کو خوف حشر میں پرشش کا انتظارؔ تیرا تو حشر ہوگا محب علیؔ کے ساتھ
duniyaa se kaun jaataa hai apni khushi ke saath
بجلیوں کے رقیب ہوتے ہیں چار تنکے عجیب ہوتے ہیں یاس و امید حسرت و ارماں زندگی کے نقیب ہوتے ہیں جتنے صیاد ہیں زمانے کے آشیاں کے قریب ہوتے ہیں دل کے زخموں سے کھیلنے والے دل کے بہتر طبیب ہوتے ہیں انتظارؔ انتظار کے لمحہ دل کو مثل صلیب ہوتے ہیں
bijliyon ke raqib hote hain





