SHAWORDS
I

Intizar Naeem

Intizar Naeem

Intizar Naeem

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

اجالوں کے علمبردار رہیے بجھے مشعل تو خود تیار رہیے ہے پنہاں عشق کی توقیر اس میں گنہ گار صلیب و دار رہیے یہ سنتی کم سناتی ہے زیادہ ذرا دیوار سے ہشیار رہیے سمجھنے میں ہی لگ جائے زمانہ کچھ ایسے بھی نہ پر اسرار رہیے ہواؤں کا سفر ہے زندگانی بکھرنے کے لیے تیار رہیے مگر جب تک بنے جلیے سلگیے جہاں تک ہو سکے بیدار رہیے وہ آئے گا مگر شرط وفا ہے سراپا انتظار یار رہیے

ujaalon ke alam-bardaar rahiye

غزل · Ghazal

جو بھی گزرے دل کے زخموں کو نہاں رکھا کریں ہم خیال آبروئے دوستاں رکھا کریں یورش غم پے بہ پے تسلیم لیکن یہ بتا مختصر سے دل میں یہ ساماں کہاں رکھا کریں اس طرح تڑپیں کہ دل کو بھی خبر ہونے نہ دیں ساری دنیا سے جدا طرز فغاں رکھا کریں گر تقاضا ہو تو بڑھ کر اپنے ہاتھوں پھونک دیں رکھنے کو ہر دم خیال آشیاں رکھا کریں زندگی کا اہل دل دیتے رہیں کچھ تو ثبوت گر نہیں شعلہ تو کم سے کم دھواں رکھا کریں روک لیں رستہ نہ جانے ظلمتیں کس موڑ پر اس کی یادوں کو سفر میں ضو فشاں رکھا کریں رہروان شوق جب ہے ایک ہی منزل تو پھر ایک جادہ ایک میر کارواں رکھا کریں ہے اگر نظروں میں کوئی خوبصورت انقلاب ذہن میں ماضی کی روشن داستاں رکھا کریں دشمن جاں دوست بن جائے یہ ممکن ہے نعیمؔ دل میں اتنی خوش گمانی تو میاں رکھا کریں

jo bhi guzre dil ke zakhmon ko nihaan rakkhaa karein

غزل · Ghazal

کیا قیامت ہے کہ عیاری ہی فن کاری ہوئی فتنہ پرور قاتلوں کے نام سرداری ہوئی ان دنوں رائج ہوا ہے خوب طرز منصفی خوں بہا تھا جس کا حق اس کی گرفتاری ہوئی اس لیے ہم سے خفا ہے مصلحت کوشوں کی بھیڑ شہریاروں کی نہ ہم سے ناز برداری ہوئی چند لمحے کیا تری پلکوں کے سائے میں چلے پھر کبھی شعلوں پہ چلنے میں نہ دشواری ہوئی اس حقیقت پر کبھی تاریخ روئے گی بہت وجہ میری ہار کی اپنوں کی غداری ہوئی اے مرے لوگو نہ جانے کوچ کب کرنا پڑے کیا کبھی سوچا سفر کی کتنی تیاری ہوئی جستجوئے منزل تاباں ہو شعروں میں نعیمؔ کیا مزہ گر دل پہ بجھنے کی فضا طاری ہوئی

kyaa qayaamat hai ki 'ayyaari hi fankaari hui

غزل · Ghazal

جو دشمن ہے اسے یوں بھی سزا ہم لوگ دیتے ہیں وہ جب جب زخم دیتا ہے دعا ہم لوگ دیتے ہیں ہماری راہ میں کانٹے بچھانا جس کا شیوہ ہے وہ ملتا ہے تو پھولوں کی قبا ہم لوگ دیتے ہیں ہماری راہ کانٹوں سے بھری ہے سوچ کر آؤ زمانے کو بدلنے کی صدا ہم لوگ دیتے ہیں کھلا دے ایک دن آ کر یہ مرجھائے ہوئے چہرے تجھے آواز اے باد صبا ہم لوگ دیتے ہیں یوں ہی آتی نہیں مقتل میں پس منظر کی تابانی لہو سے اپنے ہر منظر کھلا ہم لوگ دیتے ہیں ہمارے خون کو اتنا بھی ارزاں مت سمجھ دنیا ترے ہاتھوں پہ یہ رنگ حنا ہم لوگ دیتے ہیں ان آنکھوں میں اگر تھوڑی سی بھی بینائی باقی ہو تو اپنی شکل دیکھو آئنہ ہم لوگ دیتے ہیں نعیمؔ اپنے لہو کی چیخ سنتا ہی نہیں کوئی نہ جانے کس بیاباں میں صدا ہم لوگ دیتے ہیں

jo dushman hai use yuun bhi sazaa ham log dete hain

Similar Poets