
Iqbal Ahmad Qamar
Iqbal Ahmad Qamar
Iqbal Ahmad Qamar
Ghazalغزل
وہ حال دل ہے ترا ساتھ ختم ہونے پر وہی جو ہوتا ہے برسات ختم ہونے پر میں حوصلے سے رہا خوف کے سمندر میں مگر میں گر پڑا خدشات ختم ہونے پر مرے جواب سے سب لا جواب ہیں لیکن میں مضطرب ہوں سوالات ختم ہونے پر وہ اک ہجوم جو مجھ کو اٹھائے پھرتا تھا نظر نہ آیا مفادات ختم ہونے پر میاں یہ سنتے چلے آئے ہیں بزرگوں سے کہ ختم ہوتی ہیں عادات ختم ہونے پر کچھ ایسے لوگ بھی اے نسل نو حیات ہیں جو سلگ رہے ہیں روایات ختم ہونے پر سنو فضاؤں کو مسموم اس قدر نہ کرو کہ آ گئے ہیں نباتات ختم ہونے پر کہیں زمانہ کسی کے لئے رکا ہے کبھی کوئی نہ ہوگا تری بات ختم ہونے پر ہے بد دعا یا کوئی سحر ہے قمرؔ ہم پر اندھیرا بڑھتا ہے ہر رات ختم ہونے پر
vo haal-e-dil hai tiraa saath khatm hone par
بتاؤں کیا تمہیں کس بوجھ سے دبا ہوا ہوں میں اپنے نفس کی تہذیب میں لگا ہوا ہوں بساط زیست اگرچہ بنی ہے میرے لئے مگر پٹا ہوا مہرہ بھی میں بنا ہوا ہوں یہاں نہ چھیڑ مرے دوست ذکر ماضی کو ابھی تو لوگوں کی نظروں میں پارسا ہوا ہوں ذرا سا صبر کھلیں گے مرے پر پرواز نیا نیا قفس عشق سے رہا ہوا ہوں کسی کے ہاتھ کے داؤ پہ ہوں رکھا ہوا میں کسی کے خوابوں کی حد سے بھی ماورا ہوا ہوں مجھے نہ چھیڑ خدا کے لیے نہ چھیڑ مجھے گلے تلک میں سوالات سے بھرا ہوا ہوں میں جانتا ہوں قمرؔ کیا مقام ہے میرا یہاں بزرگ نہیں ہیں سو میں بڑا ہوا ہوں
bataaun kyaa tumhein kis bojh se dabaa huaa huun
جھلملاتے ہوئے آنکھوں میں ستارے لمحے مجھ پہ قدرت نے کچھ ایسے بھی اتارے لمحے بھول جانا تجھے ممکن تو نہیں ہے لیکن جا تجھے بخش دئے ساتھ گزارے لمحے ایک نقطے میں سمٹ کر چلے آئے ہیں سبھی داستانوں میں تھے پھیلے ہوئے سارے لمحے ہائے کیا دن تھے جنہیں سوچ کے جی اٹھتے ہیں سوندھی مٹی کی طرح کورے کنوارے لمحے آج بھی وجہ سیادت ہیں مرے واسطے وہ تیری قربت نے جو دو چار سنوارے لمحے جیسے الہام کی صورت وہ اترنے لگ جائیں میرے ہی دل پہ قمرؔ سب تھکے ہارے لمحے
jhilmilaate hue aankhon mein sitaare lamhe
بات بن جانے کا امکان بھی ہو سکتا ہے مسئلہ کہنے سے آسان بھی ہو سکتا ہے آپ جس بات کو معمولی سمجھ بیٹھے ہیں کوئی اس بات پہ حیران بھی ہو سکتا ہے ایک سرگوشی تناور بھی تو ہو سکتی ہے تیری ہر بات کا اعلان بھی ہو سکتا ہے گمرہی میں جو مری راہبری کو آیا خود وہ بھٹکا ہوا انسان بھی ہو سکتا ہے پیش بندی اسے تم کہتے ہو میری لیکن بخدا یہ مرا وجدان بھی ہو سکتا ہے تم نے لفظوں میں جو ٹانکا ہے نگینے کی طرح وہ کسی اور کا فرمان بھی ہو سکتا ہے میرے رستے ہی مری تجربہ گاہیں ہیں قمرؔ گرچہ ان راہوں میں نقصان بھی ہو سکتا ہے
baat ban jaane kaa imkaan bhi ho saktaa hai





