
Iqbal Anjum
Iqbal Anjum
Iqbal Anjum
Ghazalغزل
gham ho ki khushi koi tamaashaa nahin karte
غم ہو کہ خوشی کوئی تماشا نہیں کرتے کچھ لوگ کسی بات کا چرچا نہیں کرتے بے وجہ تو ہوتی نہیں آنگن کی خموشی بچوں کو ہر اک بات پہ ٹوکا نہیں کرتے انسان کی فطرت کا عجب حال ہے یارو کچھ پیڑ گھنے ہوتے ہیں سایہ نہیں کرتے اک عمر گنوائی ہے اسی موڑ پہ ہم نے پل بھر کو مسافر جہاں ٹھہرا نہیں کرتے ہم تیغ و سپر چھین لیا کرتے ہیں انجمؔ ظالم سے کبھی ظلم کا شکوہ نہیں کرتے
duur taa-hadd-e-ufuq manzar sunahraa ho gayaa
دور تا حد افق منظر سنہرا ہو گیا رفتہ رفتہ شام کا ہر رنگ گہرا ہو گیا یا تو اب آہٹ کوئی مجھ تک پہنچ پاتی نہیں یا مرے اندر کا سارا شہر بہرا ہو گیا ایک اک کر کے ہر اک تصویر دھندلاتی گئی جب اداسی کا کنواں کچھ اور گہرا ہو گیا کیا کہوں کس شہر کی ویرانیاں آنکھوں میں تھیں جس گھنے جنگل سے میں گزرا وہ صحرا ہو گیا
agarche vusat-e-imkaan nazar mein chhoD gayaa
اگرچہ وسعت امکاں نظر میں چھوڑ گیا سفر کا شوق غبار سفر میں چھوڑ گیا کچھ ایسے گزرا ہے پاگل ہوا کا اک جھونکا عجیب خوف سا اک اک شجر میں چھوڑ گیا بچھڑتے وقت جو اس نے کہا تھا چپکے سے وہ ایک لفظ مجھے رہ گزر میں چھوڑ گیا نہ آہٹیں نہ صدائیں نہ دستکیں نہ امید نہ جانے کون تھا کچھ بھی نہ گھر میں چھوڑ گیا ابھرتے ڈوبتے گزری تمام شب انجمؔ اداس چاند مجھے کس بھنور میں چھوڑ گیا
haalaanki main asir-e-azaab-e-safar na thaa
حالانکہ میں اسیر عذاب سفر نہ تھا یہ اور بات ہے کہ مرا کوئی گھر نہ تھا دن رات بھاگتے ہوئے لمحوں کے درمیاں میں سوچتا تھا کوئی مرا ہم سفر نہ تھا ہم بحر زندگی سے جو چن چن کے لائے تھے خالی سبھی صدف تھے کسی میں گہر نہ تھا یوں خاک اڑ رہی ہے نگاہوں کے سامنے دشت طلب میں دور تلک کوئی گھر نہ تھا بارش کی سازشوں میں ہوا بھی شریک تھی لیکن مکین شہر کوئی باخبر نہ تھا لوگوں نے سنگسار کیا اس کے باوجود وہ مطمئن تھا اس کا کہا بے اثر نہ تھا
hadd-e-nigaah shaam kaa manzar dhuaan dhuaan
حد نگاہ شام کا منظر دھواں دھواں چھانے لگا ہے ذہن کے اندر دھواں دھواں گرتی ہوئی پھوار بناتی ہوئی دھنک کچھ دیر بعد رہ گئی ہو کر دھواں دھواں لہروں سے کھیلتا ہوا کرنوں کا اک ہجوم اٹھتا ہوا سا دور افق پر دھواں دھواں اڑتے ہوئے پرند خلاؤں میں گم ہوئے پھر رہ گیا نگاہ میں جم کر دھواں دھواں کانوں میں کشتیوں کی صدا گونجنے لگی پھر سامنے ہے ایک سمندر دھواں دھواں
har samt khaamushi kaa ghanaa ik hisaar thaa
ہر سمت خامشی کا گھنا اک حصار تھا حد نگاہ سلسلۂ کوہسار تھا وہ آگ تھی کہ جلتا رہا عمر بھر بدن مضمر مرے لہو میں کہیں اک شرار تھا چھو کر بلندیوں کو ہوئے بد گمان لوگ پھر اس کے بعد ایک مسلسل اتار تھا ہم نے دعائیں مانگ کر روکیں تباہیاں لیکن ہر ایک شے میں عجب انتشار تھا اک روشنی بھی دست مسافت میں ساتھ تھی کوئی تو مجھ سے آگے سر رہ گزار تھا





