
Iqbal Farid Maysori
Iqbal Farid Maysori
Iqbal Farid Maysori
Ghazalغزل
یوں تو ان کی مہربانی اور ہے دل کے زخموں کی نشانی اور ہے ان کی محفل مقتل صد آرزو پر ہماری سخت جانی اور ہے آئنے کو رکھ لیا ہے روبرو بے زبانی میں کہانی اور ہے کم تھیں کیا ہم پر زمیں کی سختیاں کیوں بلائے آسمانی اور ہے ہوتے ہوتے رہ گیا ان کا کرم شاید اپنی زندگانی اور ہے تم اٹھاؤ ساز میں چھیڑوں غزل آج محفل پر جوانی اور ہے یہ بھی اک طرفہ تماشہ ہے فریدؔ پیار پر اک بد گمانی اور ہے
yuun to un ki mehrbaani aur hai
کلی جو دل کی کھلی تھی مسل گئی تاریخ بہار جیسے ہی آئی بدل گئی تاریخ جو پو پھٹی تو ہمیں ہوش آیا رات گئی فریب آج بھی دے کر نکل گئی تاریخ اک اور وعدہ کا شدت سے انتظار کیا تمہارے وعدہ کی جب بھی بدل گئی تاریخ بہت غرور تھا ماضی پہ آج تک اس کو ہماری راہ میں آئی تو جل گئی تاریخ جہاں بھی ذہن رسا نے قدم اٹھائے ہیں روایتوں کو یہ بڑھ کر کچل گئی تاریخ کہانیوں کو حقیقت کا روپ دے ڈالا فریدؔ آپ کے شعروں میں ڈھل گئی تاریخ
kali jo dil ki khili thi masal gai taarikh
دوستی پر یقیں لا محدود ہو چکا اب وہ سلسلہ محدود ہم نے جو بھی کہا کہا محدود سب کو اچھا لگا کہ تھا محدود شاعری مختصر نویسی ہے ورنہ لاوا تھا دل میں لا محدود اس کو دریا میں جا کے ملنا تھا ایک قطرہ تھا رہ گیا محدود چاہے جتنا بھی ہو وسیع مگر پھر بھی ہوتا ہے دائرہ محدود اپنا اپنا نصیب ہے اے دوست ورنہ سب کچھ یہاں ہے لا محدود رہنما جب سے میں بنا اپنا نہ رہا کوئی راستہ محدود اس کو کوزے میں بند کر ڈالا اب تو دریا بھی ہو چکا محدود دسترس میں فریدؔ تھا سب کی جانے اب کیوں وہ ہو گیا محدود
dosti par yaqin laa-mahdud





