SHAWORDS
I

Iqbal Firdausi

Iqbal Firdausi

Iqbal Firdausi

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

aai judaai aisi ki milnaa muhaal hai

آئی جدائی ایسی کہ ملنا محال ہے ہم تو ہیں دلی شہر میں وہ نینی تال ہے سن لو مرے رقیب کا اب کیسا حال ہے اتنا پٹا تھا مجھ سے ابھی تک نڈھال ہے آنکھیں نشیلی جس کی قیامت کی چال ہے اس پر نظر نہ ڈالیو وہ میرا مال ہے مجھ سے چھڑا لے آج یہ کس کی مجال ہے چٹکی میں میری جان وفا تیرا گال ہے ستر برس کی عمر میں شادی ہے آٹھویں باسی کڑھی میں دیکھیے کیسا ابال ہے کل بھی ترس رہے تھے چکن اور مٹن کو ہم کیسا ستم ہے آج بھی کھانے میں دال ہے مرغا پڑوس کا ہے چھری اس پہ پھیر دو سمجھو نہ غیر کا اسے اپنا ہی مال ہے غالبؔ کا اب مکاں ہمیں کچھ کچھ مکاں لگا اینٹیں نہ بجری اب وہاں لکڑی کی ٹال ہے بوسے پہ تیرے روٹھ کے اقبالؔ جو گئی آئے گی وہ دوبارہ ترا کیا خیال ہے

غزل · Ghazal

maanaa ki TeDhi hai ye vafaa ki Dagar vagar

مانا کہ ٹیڑھی ہے یہ وفا کی ڈگر وگر ہر حال میں اسی پہ کریں گے سفر وفر ایسی بھروں گا آہ کسی روز دیکھنا دل پر تمہارے ہوگا یقینا اثر وثر کب تک اٹھاؤں میں تری نفرت کا ٹوکرا مجھ پر ہو پیارے پیار کی اب تو نظر وظر میرے لبوں پہ گیت نہ طبلے پہ تال ہے پھر کیوں مٹک رہی ہے تمہاری کمر ومر آؤ تمہارے حسن کا صدقہ اتار دوں ڈرتا ہوں لگ نہ جائے کسی کی نظر وظر کر دو خطا معاف مجھے کھانا دے بھی دو پھکنی سے چاہے لے لو مری تم خبر وبر اقبالؔ ایک بات کبھی مان لی تھی بس بیوی ہوئی ہے تب سے ہی ہم پر زبر وبر

غزل · Ghazal

kuche mein un ke jaanaa maanaa ki pur-khatar hai

کوچے میں ان کے جانا مانا کہ پر خطر ہے موسل سے کیوں ڈریں ہم جب اوکھلی میں سر ہے تقدیر کا ستارہ کتنا عروج پر ہے نظروں میں ماہ پارہ پہلو میں نیلوفر ہے تم نے مٹر پلاؤ کیسا بنایا بیگم چاول تو گل گئے ہیں کچی مگر مٹر ہے دل میں سما نہ پائے بھاری وجود تیرا بانہوں میں کیسے آئے موٹی تری کمر ہے ہر بار ہم نے سوچا اس کو گلے لگائیں بچ بچ کے بھاگ نکلا چالاک کس قدر ہے راہ وفا میں اس کو اقبالؔ کیسے پکڑوں میں پچھلے موڑ پر ہوں وہ اگلے موڑ پر ہے

Similar Poets