Iqbal Haidri
Iqbal Haidri
Iqbal Haidri
Ghazalغزل
ذوق دیدار تماشا بار رسوائی ہوا خود تماشا بن گیا جو بھی تماشائی ہوا قریہ قریہ ڈھونڈھتی ہے روح لیلیٰ قیس کو نجد کے صحرا میں پھر ایسا نہ سودائی ہوا جس لہو سے دل میں روشن درد کی مشعل رہی وہ لہو اک بے وفا کے رخ کی زیبائی ہوا جان کر ہم کیا کریں گے چھوڑ اس قصے کو اب کون سچا عشق میں تھا کون ہرجائی ہوا خود سری میں اپنے سائے سے جو لپٹے رہ گئے ان غزالوں کا مقدر دشت تنہائی ہوا روشنی کی اک کرن بھی اب تو قسمت میں نہیں چھن گئیں آنکھیں تو پھر احساس بینائی ہوا جو زباں پر لا نہ سکتے تھے عیاں سب پر ہوا فن ہمارا باعث تضحیک و رسوائی ہوا ہے جنوں کے فیض سے یہ جنبش پا ورنہ کب خار زاروں سے علاج آبلہ پائی ہوا کیا توقع اب رکھیں اقبالؔ اس دنیا سے ہم ہر قدم پر بھائی کا دشمن جہاں بھائی ہوا
zauq-e-didaar-e-tamaashaa-baar rusvaai huaa
ذہن رسا کو اوج فلک تک اڑان دے جو دل میں جاگزیں ہو وہ طرز بیان دے حرف سخن دے ایسا کہ در یتیم ہو دے تمکنت زبان میں لہجے میں شان دے ارض و سما کی وسعتیں اب مجھ پہ تنگ ہیں مجھ کو نئی زمین نیا آسمان دے طوفان ابر و باد میں سب ہیں گھرے ہوئے کشتی کو دے تو کس کی خبر بادبان دے در پہ ہیں تیرے خون کے یہ تاجران زر مت یوں کسی کے واسطے تو اپنی جان دے ماضی کی ساعتوں کو بلاتا ہوں اس طرح جیسے کوئی اجاڑ گھروں میں اذان دے یہ جسم یہ بھبھوکا قبا تار تار سی اقبالؔ اپنے حال پہ تھوڑا تو دھیان دے
zehn-e-rasaa ko auj-e-falak tak uDaan de
اپنے سے گریزاں کبھی اغیار سے برہم مانند بگولوں کے ہیں اب گرم سفر ہم پھرتے ہیں ترے شہر میں بے یار و مددگار گرد رہ منزل کی طرح خاک بہ سر ہم وہ رات کسی طور جو کاٹے نہیں کٹتی وہ رات بھی کرتے ہیں کسی طور بسر ہم اللہ ری واماندگئ قافلۂ شام بیٹھے رہے تا صبح سر راہ گزر ہم کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے اک تہمت یاراں جاتے ہیں سوئے دار جھکائے ہوئے سر ہم پھولوں کی کبھی بات ستاروں کا کبھی ذکر کرتے ہیں تجھے یاد بہ انداز دگر ہم پھر دل نے پکارا ہے اسی شعلہ نفس کو جو روح کی تسکین ہے اور زخم کا مرہم یہ جبر مشیت تھا کہ دیکھا کیے برسوں انداز شب تار میں آثار سحر ہم حسن لب و گیسو کو دیا ہم نے نیا نام عالم سے جدا رکھتے ہیں انداز نظر ہم یہ کاوش افکار متاع دل و جاں ہے رکھتے ہیں اگر کچھ تو یہی نقد ہنر ہم
apne se gurezaan kabhi aghyaar se barham
خواب و خیال ہو گئے یارانے کس طرح پل بھر میں لوگ بن گئے انجانے کس طرح کیوں کر خلوص و شوق میں بدلیں گی نفرتیں یہ فاصلے مٹیں گے خدا جانے کس طرح بولو زباں سے تم نہ کوئی گفتگو کرو دل کا تمہارے حال کوئی جانے کس طرح میں کیا کہ ایک چہرہ ہوں جم غفیر میں وہ مجھ کو اس ہجوم میں پہچانے کس طرح مجنوں تو ایک نام تھا گرد و غبار کا دل میں بسا لیا اسے لیلیٰ نے کس طرح خود اپنے ہی وجود سے وحشت زدہ ہیں لوگ آبادیوں میں آ گئے ویرانے کس طرح اقبال تم نے جو بھی کہا سچ کہا مگر سچ بات بھی تمہاری کوئی مانے کس طرح
khvaab-o-khayaal ho gae yaaraane kis tarah
گم دھندلکوں میں ہوئی راہ گزر تیرے بعد رک گیا جیسے ستاروں کا سفر تیرے بعد تاب نظارہ کہاں تھی تری جلوت میں ہمیں ڈھونڈھتی ہے تری صورت کو نظر تیرے بعد دیکھتے دیکھتے انداز گلستاں بدلا پھول تھے پھول شجر تھے نہ شجر تیرے بعد یوں تو دیکھے تھے بہت روپ جہاں کے ہم نے وہ بھی اک روپ تھا جو آیا نظر تیرے بعد آرزو لے کے تری چل تو پڑے تھے گھر سے اب یہ مشکل ہے کہ ہم جائیں کدھر تیرے بعد فن کو سولی پہ چڑھایا گیا فن کار کے ساتھ قریہ قریہ بکی ناموس ہنر تیرے بعد کس قدر تھا رگ جاں میں تو ہماری پیوست اس حقیقت کی ہوئی ہم کو خبر تیرے بعد ہے یہ ظلمت ہی مقدر تو پکاریں کس کو کس سے معلوم کریں اپنی خبر تیرے بعد یوں فراغت ہے ہر اک کام سے ہم کو جیسے ختم ہے سلسلۂ شام و سحر تیرے بعد رونقیں تجھ سے تھیں ساری سو ترے ساتھ گئیں شہر کا شہر ہوا ایک کھنڈر تیرے بعد کاش ہو سکتا کسی طرح تجھے بھی معلوم حال اقبالؔ کا ہے کتنا دگر تیرے بعد
gum dhundlakon mein hui raahguzar tere baad
خنجر کی طرح اترے ہے جو بات کرو ہو اپنوں پہ یہ تم کیسی عنایات کرو ہو جب برملا کہنے کی یہاں رسم نہیں ہے پھر کس لیے تم پرشش حالات کرو ہو یا کہتے تھے تم کھل کے کہو جو بھی ہے دل میں یا کہتے ہو تم ہم سے شکایات کرو ہو یا ہم سے گھڑی بھر کی جدائی تھی قیامت یا ہم سے گھڑی بھر بھی نہ اب بات کرو ہو دیکھو کبھی اس کو بھی جو ہے چہروں کے پیچھے کہنے کو تو تم سب سے ملاقات کرو ہو ہم دل زدگاں کو بھی تو آ کر کبھی پوچھو تم سب پہ کرم سب پہ عنایات کرو ہو اس کوچہ سے گزرو ہو نہ تم اس سے ملو ہو اس شہر میں کیسے گزر اوقات کرو ہو تسبیح تھی اس نام کی ہر وقت یا اب تم اللہ کی دن رات مناجات کرو ہو ہے ترک تعلق بھی تو یک گونہ تعلق کیوں اس کی زمانہ سے شکایات کرو ہو وہ تم سے خفا ہے تو اسے جا کے منا لو کیوں اور خراب اپنے یہ حالات کرو ہو اقبالؔ اٹھو کام میں اب جی کو لگاؤ کس دھیان میں برباد یہ دن رات کرو ہو
khanjar ki tarah utre hai jo baat karo ho





