
Iqbal Jahan Qadeer
Iqbal Jahan Qadeer
Iqbal Jahan Qadeer
Ghazalغزل
زلزلے جب انا کے غضب ڈھا گئے سنگریزے پہاڑوں سے ٹکرا گئے ہم ہیں پروردۂ حادثات جہاں آپ تو ایک صدمے سے گھبرا گئے پھول ہی پھول تھے خوشبوؤں کے چمن حسن کردار کو میرے مہکا گئے جس کی قسمت میں تھیں تنگ دامانیاں پیر چادر سے آگے وہ پھیلا گئے بوند پانی نہ سوکھی زمیں کو ملا دیکھنے میں کئی ابر منڈلا گئے اڑتی اڑتی چلی آئی یاد وطن اجنبی شہر میں ہم جو تنہا گئے اجلا اجلا سہی دامن عہد نو سارے نقش کہن ہم کو یاد آ گئے
zalzale jab anaa ke ghazab Dhaa gae
نظر نظر میں تقاضا ضرور ہوتا ہے چھپا ہوا کوئی جذبہ ضرور ہوتا ہے کبھی وہ سامنے ہوتے کبھی نہیں ہوتے تصورات میں دھوکا ضرور ہوتا ہے نہیں کچھ اس کا کسی اہل غم کو اندازہ کہ بوجھ بڑھنے سے ہلکا ضرور ہوتا ہے کہیں ذرا بھی بناوٹ نظر نہیں آتی ترے ستم میں سلیقہ ضرور ہوتا ہے عجیب شے ہے زمانے میں خون کا رشتہ کہ غیر ہو کے بھی اپنا ضرور ہوتا ہے یہ اور بات خلش اس کی دل میں رہ جائے کوئی بھی زخم ہو اچھا ضرور ہوتا ہے ڈھلیں گی نور میں اقبالؔ ظلمتیں اک دن طویل شب کا سویرا ضرور ہوتا ہے
nazar nazar mein taqaazaa zarur hotaa hai
حقیقتوں کا نہ پردہ ابھی اٹھانا تھا خیال و خواب کا منظر بڑا سہانا تھا طلب کی راہ میں تھی آرزوئے دل دشمن نہ امتحاں تھا کسی کا نہ آزمانا تھا چل اڑ کے اور پرندے کہیں بسیرا کر وہ پیڑ کٹ گئے جن پر ترا ٹھکانا تھا نہ حوصلہ تجھے دیتا کبھی دل نازک اگر مجھے کسی منزل پہ ٹوٹ جانا تھا بدل گئی ہے کچھ اس طرح صورت گلشن پتا نہیں ہے کہاں میرا آشیانا تھا عیاں کیا نہ کبھی خود کو غم پرستوں نے ہر اک مقام پہ توقیر غم بڑھانا تھا ہمیں تو رکھنی تھی اقبالؔ آبرو غم کی بہ قید ضبط بجھے دل سے مسکرانا تھا
haqiqaton kaa na parda abhi uThaanaa thaa
ہر مکاں لا مکاں کی گنجائش دل میں ہے دو جہاں کی گنجائش پر پرواز میں اتر آئی وسعت آسماں کی گنجائش سجدۂ شوق میں سما جائے آپ کے آستاں کی گنجائش نام اس کو وفا کا مت دیجے جس میں ہو امتحاں کی گنجائش حسن اعمال کا تعین کر دیکھ عمر رواں کی گنجائش پھیل جائے تو آسماں چھو لے اس کے ذکر و بیاں کی گنجائش یہ گرانی کے پیچ و خم اقبالؔ کیا بچت اور کہاں کی گنجائش
har makaan laa-makaan ki gunjaaish
دو ہاتھوں کے دو ہیں اصول ایک میں پتھر ایک میں پھول ترک تمنا کی یہ بات کون کرے گا دل سے قبول راہنما کو فکر ہی کیا کوئی مسافر کیوں ہے ملول یاد رہیں گے عمر تمام آپ کے وعدے آپ کی بھول ایک نہ سر سے بوجھ ٹلا اور بلاؤں کا ہے نزول چال نہ اتنی تیز چلو سر سے اونچی پاؤں کی دھول بات بنے گی تجھ سے بھلا عذر نہیں کوئی معقول دیر ہوئی اقبالؔ تو کیا کوئی دعا تو ہوگی قبول
do haathon ke do hain usuul
حسن پرواز بے کراں بولے سر اٹھاؤں تو آسماں بولے اس نظر کی زبان کو سمجھو جو خموشی کے درمیاں بولے بے خودی میں نظر نہیں آتا ہم کہاں سمجھے تم کہاں بولے ختم ہو جب فساد کی شورش گھر کی دیوار سائباں بولے بولیوں کے ہجوم میں رہ کر کوئی بولی نہ بے زباں بولے تم نہ بولو تو اک جہاں خاموش تم جو بولو تو اک جہاں بولے جس سے گر جائے بات کی رفعت بات ایسی نہ رازداں بولے سب ہیں اقبالؔ مست اپنے میں حال دل کب کوئی کہاں بولے
husn-e-parvaaz be-karaan bole





