Iqbal Majeedi
Iqbal Majeedi
Iqbal Majeedi
Ghazalغزل
کچھ اعتماد کا لہجہ بھی فکر و فن سے ملا یہ سلسلہ تو مجھے میرؔ کے سخن سے ملا بکھر بکھر کے میں سمٹا ہوں ایک مرکز پر یہ حوصلہ تو مجھے تیرے حسن ظن سے ملا عجیب طور سے تو نے صدا لگائی تھی بس ایک کرب مسلسل ترے سخن سے ملا ترا خیال مجھے دستکیں تو دیتا تھا ترا پتا مجھے خوشبوئے پیرہن سے ملا میں بجھ گیا تھا سواد دیار ظلمت میں چراغ راہ تو امید کی کرن سے ملا بھٹک رہا تھا مجیدیؔ شب جدائی میں چراغ زیست مجھے حسن گل بدن سے ملا
kuchh e'timaad kaa lahja bhi fikr-o-fan se milaa
غبار ظلمت دوراں میں اٹ گیا ہوں میں وہ چاند ہوں کہ جو محور سے ہٹ گیا ہوں میں مری نگاہ میں تھی تنگ وسعت کونین اب اپنی ذات میں لیکن سمٹ گیا ہوں میں کہاں تلاش کروں جا کے آدمیت کو مرے کریم قبیلوں میں بٹ گیا ہوں میں نوید صبح کا خورشید ہے کہاں یا رب شب حیات کی ظلمت میں اٹ گیا ہوں میں کبھی نسیم کے جھونکوں سے سانس رکتی ہے کبھی سموم کے طوفاں میں ڈٹ گیا ہوں میں قدم قدم پہ یہاں نفرتوں کے جال بچھے کبھی کبھی رہ منزل سے کٹ گیا ہوں میں یہ کون میرے تصور میں جلوہ فرما ہے وفور شوق میں کس سے لپٹ گیا ہوں میں حریم ناز میں دکھلائی بے رخی کس نے کہ الٹے پاؤں مجیدیؔ پلٹ گیا ہوں میں
ghubaar-e-zulmat-e-dauraan mein aT gayaa huun main





