
Iqbal Payam
Iqbal Payam
Iqbal Payam
Ghazalغزل
جس کا چہرہ گلاب جیسا ہے اس کا ملنا تو خواب جیسا ہے بات کرتا ہوں اس لیے ان کی بات کرنا ثواب جیسا ہے میرا جینا تری جدائی میں اک مسلسل عذاب جیسا ہے نشہ اس کی نشیلی آنکھوں کا سب سے اچھی شراب جیسا ہے حال اس کا بھی آج کل یارو دل خانہ خراب جیسا ہے اے پیامؔ ان کی چاہتوں کا پیام چاہتوں کی کتاب جیسا ہے
jis kaa chehra gulaab jaisaa hai
1 views
اسباب یہی ہے یہی سامان ہمارا چڑیوں سے مہکتا رہے دالان ہمارا ہر شخص کو خوشحالی کی دیتے ہیں دعائیں ہر شخص ہی کر جاتا ہے نقصان ہمارا ہر شخص ہی کیوں اس کو مٹانے پہ تلا ہے دیواروں پہ لکھا ہوا پیمان ہمارا پیتے ہیں فقط ساتھ نبھانے کے لیے ہم ہر شام کو غم ہوتا ہے مہمان ہمارا رہنا ہے کسی اور کے قبضے میں ہمیشہ بھر سکتا نہیں کوئی بھی تاوان ہمارا اس بات کا دکھ ہے کہ اشارہ نہیں کاٹا ہر موڑ پہ ہوتا رہا چالان ہمارا ہر روز پڑے ہوتے ہیں سب پھول زمیں پر یہ کون گرا دیتا ہے گلدان ہمارا
asbaab yahi hai yahi saamaan hamaaraa
اس نے دل سے نکال رکھا ہے کس مصیبت میں ڈال رکھا ہے غور سے دیکھ اس کی آنکھوں میں روشنی کا کمال رکھا ہے اس سے ہوتی نہیں ملاقاتیں اس نے وعدوں پہ ٹال رکھا ہے میرے آنگن میں کیا خوشی آئے سامنے غم کا جال رکھا ہے وہ ہمیں پوچھنے نہیں آتا ہم نے جس کو سنبھال رکھا ہے اس کی ہم اس ادا پہ ہیں قربان رابطہ تو بحال رکھا ہے یہ کسی طور کھل نہیں پاتا کس نے کس کا خیال رکھا ہے اس کدورت سے مجھ کو ملتا ہے جیسے شیشے میں بال رکھا ہے جس کا اپنا نہیں جواب کوئی اس کے آگے سوال رکھا ہے اے پیامؔ اس کی بھی خبر لے لو کر کے جس نے نڈھال رکھا ہے
us ne dil se nikaal rakkhaa hai





