SHAWORDS
I

Iqbal Rahi

Iqbal Rahi

Iqbal Rahi

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

roko ye vahshaton kaa bahaao kisi tarah

روکو یہ وحشتوں کا بہاؤ کسی طرح کشتی کو ناخدا سے بچاؤ کسی طرح یہ امن کا چمن خس و خاشاک ہو نہ جائے برسو محبتوں کی گھٹاؤ کسی طرح کب تک پھرو گے در بدری کا جنوں لیے دل میں جگہ کسی کے بناؤ کسی طرح ہوتی نہیں ہیں کم کسی صورت بھی نفرتیں اس خار و خس میں آگ لگاؤ کسی طرح آنکھوں میں آنسوؤں کا خزانہ نہیں رہا پھر دے کوئی جدائی کے گھاؤ کسی طرح یہ قہقہوں کی کھوکھلی برسات ختم ہو اندر کے آدمی کو رلاؤ کسی طرح اشکوں کا تحفہ پیش کرو ان کے روبرو سورج کو بھی چراغ دکھاؤ کسی طرح

غزل · Ghazal

aankhon se us ki yaad kaa haala nahin gayaa

آنکھوں سے اس کی یاد کا ہالہ نہیں گیا کانٹا یہ اپنے دل سے نکالا نہیں گیا غم کھائے آنسوؤں کو پیا ہونٹ سی لیے کوئی بھی حکم آپ کا ٹالا نہیں گیا ہر چیز کائنات کی روشن ہوئی مگر ذہن بشر سے حرص کا جالا نہیں گیا دیوان گان حسن کی اک بھیڑ تھی وہاں میں اس کی انجمن میں نرالا نہیں گیا وہ ایک بار آئے تھے دہلیز پہ مری پھر اس کے بعد گھر سے اجالا نہیں گیا ہر شخص کے لبوں پہ ہیں اس کی حکایتیں ظالم سے اپنا حسن سنبھالا نہیں گیا آسائشوں پہ راہیؔ میں کیا تبصرہ کروں اس قید میں ابھی مجھے ڈالا نہیں گیا

غزل · Ghazal

dekh kar vo mujhe hairaan bhi ho saktaa hai

دیکھ کر وہ مجھے حیران بھی ہو سکتا ہے اب کے اس بات کا امکان بھی ہو سکتا ہے اپنی من موہنی صورت پہ اداسی نہ بکھیر اس طرح کوئی پریشان بھی ہو سکتا ہے نفرتیں بڑھتی رہیں گر اسی رفتار کے ساتھ یہ حسیں شہر تو ویران بھی ہو سکتا ہے گھر کی دہلیز پہ مشعل لیے موجود ہوں میں آنے والا کوئی انجان بھی ہو سکتا ہے جب وہ منہ پھیر کے جاتے ہیں تو میں سوچتا ہوں اتنا ظالم کوئی انسان بھی ہو سکتا ہے اپنے عارض کی گلابی میرے نزدیک نہ لا ایسے بینائی کا نقصان بھی ہو سکتا ہے چل پڑیں راہ قناعت پہ اگر ہم راہیؔ ختم یہ حرص کا سرطان بھی ہو سکتا ہے

غزل · Ghazal

us bevafaa ne lauT ke aanaa to hai nahin

اس بے وفا نے لوٹ کے آنا تو ہے نہیں اب اس کے پاس کوئی بہانہ تو ہے نہیں منڈلائیں کیوں نہ یہ مرے آنگن کے آس پاس ان پنچھیوں کا کوئی ٹھکانہ تو ہے نہیں کب تک تمہاری یاد میں دامن بھگوئیں ہم آنکھوں میں آنسوؤں کا خزانہ تو ہے نہیں جو بات بھی کریں گے کریں گے یقیں کے ساتھ ہم نے ہوا میں تیر چلانا تو ہے نہیں شرما رہے ہو کس لیے لب کھولتے ہوئے اب وہ ہمارے والا زمانہ تو ہے نہیں محفل میں حسن کی مرا جانا فضول ہے تم سا وہاں کوئی نظر آنا تو ہے نہیں دل پہ جو بیتی ہے سنانے کا فائدہ آنسو کسی کی آنکھ میں آنا تو ہے نہیں اس واسطے میں تم سے ہوا ہوں کنارہ کش کشتی کو تم نے پار لگانا تو ہے نہیں جتنی تمہارا دل کرے اتنی پلاؤ آج اس بار ہم نے ہوش میں آنا تو ہے نہیں راہیؔ وہ اس لیے کبھی ہوتے نہیں خفا وہ جانتے ہیں ہم نے منانا تو ہے نہیں

غزل · Ghazal

noch kar pheink do baalon mein lagaae hue phuul

نوچ کر پھینک دو بالوں میں لگائے ہوئے پھول کام کے رہتے نہیں کام میں لائے ہوئے پھول میں اسی سوچ میں گم بیٹھا ہوں ساحل کے قریب کہاں ٹھہریں گے سمندر میں بہائے ہوئے پھول اس قدر گہرا تعلق ہے مرا خوشبو سے سر پہ رکھ لیتا ہوں پاؤں تلے آئے ہوئے پھول ایک باریک سے کمرے میں بسیرا ہے مرا کہاں رکھوں گا ترے ہاتھ کے لائے ہوئے پھول یہ ہوا ان سے ملاقات کا نقصان مجھے میرے ہاتھوں سے نکلتے ہی پرائے ہوئے پھول وہ مرے پاس سے گزرے ہیں بچا کر نظریں اور میں رہ گیا ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے پھول جب وہ یاد آتے ہیں ساون کے دنوں میں راہیؔ چوم لیتا ہوں میں بارش میں نہائے ہوئے پھول

Similar Poets