Iqbal Rudaulvi
ahl-e-daanish maslahat ke saaebaanon mein rahe
اہل دانش مصلحت کے سائبانوں میں رہے بس ہمیں اہل جنوں کھاتے ہوئے پتھر چلے اقتدار مے کدہ کی کشمکش رندوں میں تھی بات اتنی تھی کہ جس پر شہر میں خنجر چلے وہ جو آئے ساتھ آیا اک جہان رنگ و بو وہ چلے تو ساتھ ان کے سیکڑوں منظر چلے کیوں ہماری صاف گوئی سے قیامت ہو بپا محفل یاراں سلامت ہم تو اپنے گھر چلے