SHAWORDS
Iqbal Tariq

Iqbal Tariq

Iqbal Tariq

Iqbal Tariq

poet
13Ghazal

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

ہم آئنے میں جوانی تلاش کرتے رہے محبتوں کی کہانی تلاش کرتے رہے ہمارے دل پہ عجب اضطراب طاری رہا نظر نظر میں کہانی تلاش کرتے رہے شعور ماضی کے کرب و بلا میں الجھا رہا شراب ہم بھی پرانی تلاش کرتے رہے ہمارے عزم کی بنیاد کتنی گہری تھی وہ اک گھڑی تھی سہانی تلاش کرتے رہے نصیحتوں کا اثر ہم پہ خاک بھی نہ ہوا کسی کی بات نہ مانی تلاش کرتے رہے ترے فراق میں رونا بہت ضروری تھا ہم اپنی آنکھ میں پانی تلاش کرتے رہے تمہارے قرب کے موسم کدھر گئے طارقؔ کدھر گئی وہ جوانی تلاش کرتے رہے

ham aaine mein javaani talaash karte rahe

غزل · Ghazal

وطن سے دور اے پیارے پرندے پریشاں حال دکھیارے پرندے ضرورت کے قفس میں قید ہیں سب خوشی سے درد کے مارے پرندے تلاش رزق میں نکلے گھروں سے سحر دم آنکھ کے تارے پرندے اڑے اپنے دکھوں کا بوجھ ڈھونے مثال من تھکے ہارے پرندے ہرے صحرائے چشم ان کے رہیں گے بہت روئے ہیں بے چارے پرندے فقط ہم ہی نہیں طارق یہاں پر سفر میں ہیں بہت سارے پرندے

vatan se duur ai pyaare parinde

غزل · Ghazal

دل لگی اور چیز ہوتی ہے دلبری اور چیز ہوتی ہے رسم ہے یوں معانقہ کرنا دوستی اور چیز ہوتی ہے با وضو ہوں میں قبلہ رو بھی مگر بندگی اور چیز ہوتی ہے ان اجالوں کو روشنی نہ کہو روشنی اور چیز ہوتی ہے ہم تو لاشیں ہیں سانس لیتی ہوئی زندگی اور چیز ہوتی ہے حرف در حرف درد ہیں بابا شاعری اور چیز ہوتی ہے بندشیں اور چیز ہیں طارقؔ شاعری اور چیز ہوتی ہے

dil-lagi aur chiiz hoti hai

غزل · Ghazal

پنجۂ زیست میں پھنسا پنچھی پھڑپھڑاتے ہوئے مرا پنچھی پر نکلتے ہی اک اڑان بھری اور پھر خواب ہو گیا پنچھی ناتواں ہے ابھی وجود ترا پھر مخالف بھی ہے ہوا پنچھی پھر پلٹ کر کبھی نہیں آیا قید سے ہو گیا رہا پنچھی جا دعائیں ہیں تیرے ساتھ مری اب محافظ ترا خدا پنچھی جانے کب جسم کا قفس ٹوٹے اور اڑ جائے روح کا پنچھی

panja-e-zist mein phansaa panchhi

غزل · Ghazal

اور دنیا میں ہم نے کیا دیکھا صرف تیرا ہی راستہ دیکھا اس نے سورج سے چار کیں آنکھیں جس نے منظر تھا رات کا دیکھا سسکیاں چاند کی سنیں ہم نے جب ستاروں کو ٹوٹتا دیکھا میرے دامن میں پیاس کتنی تھی میں نے دریا کا راستہ دیکھا حسن دیکھا تو انگلیاں کاٹیں کیا کریں گے اگر خدا دیکھا ہر شکن پھوٹ پھوٹ کر روئی رات پھر خواب کربلا دیکھا عکس اپنا دھواں دھواں پایا آج طارقؔ جب آئنہ دیکھا

aur duniyaa mein ham ne kyaa dekhaa

غزل · Ghazal

درون ذات کا منظر زمانے پر نہیں کھولا بسر اک رات کرنی ہے ابھی بستر نہیں کھولا مسافر ہوں میں بھوکا ہوں صدائیں دیں بہت لیکن دریچے کھول کر دیکھے کسی نے گھر نہیں کھولا میں تجھ سے مانگتا ہوں اس لیے مولا نڈر ہو کر کہ جب مانگا مرے اعمال کا دفتر نہیں کھولا یہاں پر ہو کا عالم ہے یہاں آسیب بستے ہیں مقفل ہے کئی برسوں سے دل کا در نہیں کھولا تماشا بن گیا آزاد ہو کر سب کی نظروں میں قفس کھولا مگر صیاد تو نے پر نہیں کھولا پس دیوار تیری یاد میں روئے بہت لیکن سر بازار ہم نے یار اپنا سر نہیں کھولا

darun zaat kaa manzar zamaane par nahin kholaa

Similar Poets