SHAWORDS
Irfan Ghazi

Irfan Ghazi

Irfan Ghazi

Irfan Ghazi

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

غم ہجراں سے اے جان جہاں ہم بن سنور نکلے ستم تیری جدائی کے سبھی ہی بے اثر نکلے خدا تیرے جنہیں اپنی خدائی پر تکبر تھا ہٹا جو رخ سے پردہ تو پس پردہ بشر نکلے مگر آساں نہیں تھے سب بھلا دینے کے رنج و غم گماں تیرے در دل سے لہو میں ڈوب کر نکلے جو دکھتے تھے بجا رہ پر وہی گمراہ تھے ناداں جو بھٹکے بھولے لگتے تھے وہی پسر خضر نکلے کہ کچھ گھنٹوں کی مدہوشی سے کیا ہوتا ہے اے ساقی پلا ایسی کہ مدہوشی میں ہی ساری عمر نکلے سجایا ہے جسے دل نے لبوں پر مسکراہٹ میں اگر بہہ جائے آنکھوں سے تو پس خون جگر نکلے کیا ان کو متاع عشق نے ہر بار پھر زندہ جو عاشق دار یاراں سے اگر نکلے تو مر نکلے

gham-e-hijraan se ai jaan-e-jahaan ham ban-sanvar nikle

غزل · Ghazal

عشق میرا کیا حقیقی عشق عشق میرا کیا مجازی عشق میرا عشق کافر عشق میرا بے نمازی ہو گیا تجھ سے شناسا پھر ہے کیا غم آدمی کو عشق تجھ سے آشنائی عشق سب سے بے نیازی عاشق آشفتہ سر کی عاشقی کا معجزہ یہ عشق ہارے بھی اگر تو عشق ہی جیتے ہے بازی تیغ خالد تیغ طارق عشق کی ہی انتہا ہے عشق مخلص سرفروشی عشق میداں میں ہے غازیؔ

ishq meraa kyaa haqiqi ishq ishq meraa kyaa majaazi

غزل · Ghazal

لاکھ کوئی دے دلاسہ آپ کو آپ کا غم آپ کا ہی ہوتا ہے مل تو جاتے ہیں کئی کندھے مگر بوجھ اپنا آدمی خود ڈھوتا ہے کون رویا رفتگاں کے غم میں یاں تو خیال مرگ کر کے روتا ہے رات بھر ماتم منا کر صبح میں اوس سے گل داغ شب کے دھوتا ہے

laakh koi de dilaasa aap ko

غزل · Ghazal

رنج غصہ گلہ تھا میرا تھا جو بھی اس شخص کا تھا میرا تھا تجھ کو کیا لینا دینا ہے واعظ وہ صنم تھا خدا تھا میرا تھا اس کا تھا جو لٹا دیا اس نے اس میں جو کچھ بچا تھا میرا تھا حملہ آور مرا تھا پیٹھ مری پیٹھ میں جو چھرا تھا میرا تھا کاش وہ اپنی جاں چھڑا لیتا میرا جو مسئلہ تھا میرا تھا کیوں کریں لوگ طنز غازیؔ پر وہ برا تھا بھلا تھا میرا تھا

ranj ghussa gila thaa meraa thaa

غزل · Ghazal

وہ نکلے تھے مثال طوفاں تپتے ریگزاروں سے چمکتی جن کی پیشانی تھی گردوں کے ستاروں سے لیے قرآن کا نسخہ سجا کر اپنے سینوں میں نکل آئے وہ طفل وقت آگے شہسواروں سے ابھی تک ابن آدم ہاں اسی حیرت میں کھویا ہے لڑے تھے تین سو تیرہ بھلا کیسے ہزاروں سے ہوئے جو غوطہ زن عشق محمد میں سنو غازیؔ ہوئی نہ پھر کبھی ان کی شناسائی کناروں سے

vo nikle the misaal-e-tufaan tapte regzaaron se

غزل · Ghazal

پیاس پی جائے بھوک کھائے مجھے کیا ہوا ہے یہ ہائے ہائے مجھے سب خدا کے لئے خموش رہو کیا کروں میں کوئی بتائے مجھے جو مجھے یاد ہے بھلا دوں گا میں جسے یاد ہوں بھلائے مجھے وہ لٹائے مجھے بہ شوق مگر ایک ہی قسط میں لٹائے مجھے دکھ بھری داستاں ہے یہ کہہ کر وہ مری داستاں سنائے مجھے ایک صورت ہے میرے بچنے کی ایک جھٹکے میں موت آئے مجھے

pyaas pi jaae bhuuk khaae mujhe

Similar Poets