Irfan Manpuri
Irfan Manpuri
Irfan Manpuri
Ghazalغزل
taDapte dil ki kashti muflisi mein Duub jaaegi
تڑپتے دل کی کشتی مفلسی میں ڈوب جائے گی محبت بن کے حسرت بے بسی میں ڈوب جائے گی اسی امید پر سہتا رہا میں دھوپ کی یورش کسی دن میری ہستی چاندنی میں ڈوب جائے گی خدا کا شکر ہے بچے مرے تہذیب والے ہیں یہ ڈر تھا نسل اپنی تیرگی میں ڈوب جائے گی یہی آثار لگتا ہے نہ مل پائیں گے ہم دونوں تمنا وصل کی غم کی ندی میں ڈوب جائے گی کہاں تک داستان غم سنائیں آپ کو عرفانؔ طبیعت آپ کی پھر بیکلی میں ڈوب جائے گی
itne zamaane bhar ke sitam dekhte rahe
اتنے زمانے بھر کے ستم دیکھتے رہے پھر بھی خدا کا سب پہ کرم دیکھتے رہے گھر کو ہمارے سامنے لوٹا گیا مگر مورت بنے کھڑے ہوئے ہم دیکھتے رہے مٹی کا اک کھلونا جو بچے سے گر گیا تب سے ہم اس کی آنکھوں کو نم دیکھتے رہے دیکھا نہ ہوگا چاند کسی نے قریب سے تھا روبرو خدا کی قسم دیکھتے رہے اب تک کسی بھی چہرے پہ ٹھہری نہیں نظر عرفانؔ کیا تھا تجھ میں جو ہم دیکھتے رہے





