SHAWORDS
Irfanullah Irfan

Irfanullah Irfan

Irfanullah Irfan

Irfanullah Irfan

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ٹوٹتے خواب کی تعبیر سے اندازہ ہوا مجھ کو شاید ذرا تاخیر سے اندازہ ہوا دونوں جانب سے مسلمان تھے مرنے والے آپ کو نعرۂ تکبیر سے اندازہ ہوا میرے پرکھوں کا مکاں مائل مسماری ہے حبس میں ٹوٹتے شہتیر سے اندازہ ہوا جھوٹ کے پاؤں بھی ہوتے ہیں اگر تو بولے آج مجھ کو تری تقریر سے اندازہ ہوا آپ جادو سے بنا لیتے ہیں مٹی سونا آپ کی پھیلتی جاگیر سے اندازہ ہوا میرے کمرے میں کوئی آیا نہیں بعد مرے گرد آلود سی تصویر سے اندازہ ہوا آپ تو اپنی خوشی سے ہیں غلام ابن غلام آپ کی قیمتی زنجیر سے اندازہ ہوا

TuTte khvaab ki taabir se andaaza huaa

غزل · Ghazal

عجیب شور ہے سارا جہان بولتا ہے مرے یقین کے آگے گمان بولتا ہے اسے کہو کہ وہ حصہ بنے کہانی کا یہ جو کوئی بھی پس داستان بولتا ہے سماعتوں پہ فسوں طاری ہونے لگتا ہے وہ ایسی شان سے اردو زبان بولتا ہے اسی کو حق ہے تری انجمن میں بولنے کا ترے حضور جو شایان شان بولتا ہے اسے سلیقہ نہیں ہے بڑوں میں بیٹھنے کا جو میری گفتگو کے درمیان بولتا ہے نہ جانوں میں یہ تماشا ہے کتنی دیر ابھی بھنور کے آگے مرا بادبان بولتا ہے میں بے طرح کے کئی گیت گنگناتا ہوں سفر میں جیسے کوئی ساربان بولتا ہے

ajiib shor hai saaraa jahaan boltaa hai

غزل · Ghazal

وہ میرے شہر میں آیا منافقت کیا ہے یہ اس نے آ کے بتایا منافقت کیا ہے مرے خلوص کو سمجھا گیا ہے نادانی فریب سامنے کھایا منافقت کیا ہے سبھی کو علم ہے ڈسنا ہے سانپ کی فطرت پھر اس میں اس کی خدایا منافقت کیا ہے وہ پھر سے ہاتھ ملانے کو میرے پاس آیا سوال میں نے اٹھایا منافقت کیا ہے سمٹ کے بیٹھ گیا ہوں میں ایک کونے میں مری سمجھ میں جو آیا منافقت کیا ہے زمین اچھی لگی شعر کہنے کی خاطر سو میں ردیف یہ لایا منافقت کیا ہے

vo mere shahr mein aayaa munaafiqat kyaa hai

غزل · Ghazal

یہ مرے چار سو اک تماشا لگے عالم رنگ و بو اک تماشا لگے دیکھ چاروں طرف اک تماشا لگا چاہتا تھا نہ تو اک تماشا لگے در حقیقت یہ کوئی تماشا نہیں جو تجھے ہو بہ ہو اک تماشا لگے رنگ اڑنا مناسب ہے مے خوار کا ٹوٹنے سے سبو اک تماشا لگے پھوٹے زخم جگر اور بہے آنکھ سے تازہ تازہ لہو اک تماشا لگے اپنے آشفتگاں کی خبر لینے آ یا ترے روبرو اک تماشا لگے جا کے اللہ کے گھر منائیں اسے آج کر کے وضو اک تماشا لگے مٹی زرخیز ہو یا نہ ہو دشت کی بہر ذوق نمو اک تماشا لگے

ye mire chaar-su ik tamaashaa lage

غزل · Ghazal

اٹھتے ہیں قدم تیز ہوا ہے مرے پیچھے لگتا ہے کوئی قافلہ سا ہے مرے پیچھے جس بزم میں جاتا ہوں مجھے ملتی ہے عزت وہ یوں کہ مری ماں کی دعا ہے مرے پیچھے بے منزل مقصود میں غلطاں ہوں سفر میں افسوس زمانے تو چلا ہے مرے پیچھے مڑنا ہے مجھے موڑ محبت کے نگر کو گاؤں کی مرے آب و ہوا ہے مرے پیچھے یہ دھوپ ہے جو سر کو مرے ڈھانپ رہی ہے یہ سایہ مرا ہے کہ چھپا ہے مرے پیچھے کہتا ہے مجھے آپ سے آگے نہیں چلنا اس طور زمانہ یہ پڑا ہے مرے پیچھے

uThte hain qadam tez havaa hai mire pichhe

Similar Poets