SHAWORDS
Irsa Mubeen

Irsa Mubeen

Irsa Mubeen

Irsa Mubeen

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

jis ke liye na jazba-e-dil kaargar rahaa

جس کے لیے نہ جذبۂ دل کارگر رہا اس کا ہی انتظار مجھے عمر بھر رہا داغ نہاں و آہ و فغاں دل گرفتگی کیا وصل تھا کہ ہجر میں جس کا اثر رہا کھایا اسی سے زخم تراشا تھا جس کو خود برسوں مرا خدا بت بیداد گر رہا تو اور کوئی ضبط کا پیکر تلاش کر اب مجھ پہ تیرا تیر نہیں کام کر رہا ارسہؔ حیات دہر ہے کوہ گراں مجھے تا عمر مرا کوئی نہیں چارہ گر رہا

غزل · Ghazal

shorish-e-gham mein raat kaaTi hai

شورش غم میں رات کاٹی ہے اور ترا درد بھی اضافی ہے دل محلے میں میں کہاں جاؤں ہر گلی تیری سمت جاتی ہے قہر و غیظ و غضب کی دنیا میں تیرا ملنا بھی حادثاتی ہے حال دل میں کہوں تو کس سے کہوں کون دنیا میں میرا ساتھی ہے غم کے دریا میں بہہ گئے ہیں ہم نا خدا ہے نہ کوئی کشتی ہے محفل درد سے اٹھو واعظ بیٹھنے کی جگہ ہماری ہے شکوۂ بخت کیوں کریں ارسہؔ کون سا رب سے ضد ہماری ہے

غزل · Ghazal

'umr kaaTi hai ham-nashinon mein

عمر کاٹی ہے ہم نشینوں میں سانپ پالے ہیں آستینوں میں ظالموں میں شمار ہے ان کا لوگ کرتے رہے حسینوں میں درد پر دسترس جو حاصل ہے صبر ایوب سا ہے سینوں میں وقت رخصت ڈبو کے کہتے ہیں کچھ نہیں رہ گیا سفینوں میں ان کی تعریف دشمنوں نے بھی کی ہم رہے اپنے نکتہ چینوں میں یار اغیار تیسرا عاشق حشر کا فیصلہ ہے تینوں میں ہم نے حد درجہ شوق سے ارسہؔ آبلے پالے آبگینوں میں

غزل · Ghazal

zindagi se savaal kyaa kiije

زندگی سے سوال کیا کیجے حسن کو پر ملال کیا کیجے عشق میں جان تک تو دے دی ہے اس سے بڑھ کر کمال کیا کیجے اس کی آواز سن لی نغمہ گر اب یہ ساز غزال کیا کیجے دل مسلتا ہے پھول کہہ کر جو اس کی جانب خیال کیا کیجے آنسوؤں کو سجا کے پلکوں پر جب وہ چلتا ہے چال کیا کیجے حسن ہے سر تا پا مگر اے دوست حسن کو ہے زوال کیا کیجے ایسے جلتا ہے تو جلے ارسہؔ دل کی اتنی سنبھال کیا کیجے

غزل · Ghazal

ham ne hans kar fareb khaae hain

ہم نے ہنس کر فریب کھائے ہیں ہم پہ دشواریوں کے سائے ہیں اب تو ہم زندگی سے جا بھی چکے آپ اب ہم سے ملنے آئے ہیں جو مرے ساتھ ساتھ رہتے تھے اب مرے شہر سے پرائے ہیں ناخنوں سے کھرچ کے تیرے نقوش اپنی تقدیر سے مٹائے ہیں کوئی پوشیدہ قہقہہ تو نہیں آپ نے دانت کیوں دبائے ہیں منزلیں آپ کا مقدر ہیں میری رہ میں کئی سرائے ہیں ہمیں تربت پہ چھیڑنے مت آ دل کے ارمان اب سلائے ہیں

غزل · Ghazal

dard dil se nikaal duun kaise

درد دل سے نکال دوں کیسے بہتے دریا کو ٹال دوں کیسے دوستوں سے فریب کھائے ہیں تم کو کس کی مثال دوں کیسے بے ضمیروں کو چارہ گر کہہ کر اپنی جاں کو وبال دوں کیسے حاکموں کو خدا لکھوں اب میں حکم رب کو میں ٹال دوں کیسے مجھ کو رب سے ملائے رکھتا ہے ہجر دل سے نکال دوں کیسے میں ہوں ارسہؔ فقیر راہ وفا خود کو کوئی جمال دوں کیسے

Similar Poets