Irshad Ahmad Arshad
Irshad Ahmad Arshad
Irshad Ahmad Arshad
Ghazalغزل
اے مورخ ملک کی تصویر لکھ چل رہے ہیں نفرتوں کے تیر لکھ جاہلوں کی عزت توقیر لکھ عالم و فاضل کی ہے تحقیر لکھ بے گناہوں کی کوئی تقصیر لکھ پاؤں میں ڈالی ہوئی زنجیر لکھ کوشش پیہم عمل تدبیر لکھ تیرے ہاتھوں میں نہیں تقدیر لکھ بے حسی ارشدؔ میاں اچھی نہیں ذہن پر احساس کی زنجیر لکھ
ai moarrikh mulk ki tasvir likh
میکدے کا نظام تھا کیا تھا ہر کوئی تشنہ کام تھا کیا تھا اک شکایت تھی سب کے ہونٹوں پر ساقیا تیرا نام تھا کیا تھا کس کے آنے کے منتظر تھے سبھی کس قدر اہتمام تھا کیا تھا اس طرف غول تھا پرندوں کا کچھ رکھا زیر دام تھا کیا تھا جس کو محسوس کر لیا میں نے وہ ترا انتقام تھا کیا تھا
mai-kade kaa nizaam thaa kyaa thaa
ہنس کے سہہ لیں گے رنج و الم دیکھنا مشکلوں میں بھی ثابت قدم دیکھنا دوستوں حوصلے ہوں نہ کم دیکھنا راستوں کے ذرا پیچ و خم دیکھنا بہہ رہا ہے جو دریائے جبر و ستم پار کر جائیں گے یہ بھی ہم دیکھنا اک تغیر زمانے کو دے جائیں گے تم ہمارا بھی زور قلم دیکھنا
hans ke sah leinge ranj-o-alam dekhnaa
سب کو دکھلاؤں گا ہنر اپنا چھوڑ جاؤں گا میں اثر اپنا ہے کٹھن راہ سے گزر اپنا ختم ہوتا نہیں سفر اپنا پھول اس کے شرر بھی ہیں اس کے ہے لگایا ہوا شجر اپنا میرؔ و غالبؔ جدھر سے گزرے تھے ہے اسی راہ سے گزر اپنا بے قراری کی کیفیت ہے ادھر دل بھی بے چین ہے ادھر اپنا وہ کسی اور کا ہوا ارشدؔ جس کو سمجھے تھے عمر بھر اپنا
sab ko dikhlaaungaa hunar apnaa





