SHAWORDS
Irshad Anjum

Irshad Anjum

Irshad Anjum

Irshad Anjum

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

آ گئے مجھ میں بھی کچھ رنگ زمانے والے اب مری آنکھ میں آنسو نہیں آنے والے تم مرا نام جو اک بار زباں پر لے آؤ خود مرے دام بڑھا دیں گے گھٹانے والے اب کے کوئی بھی تری سمت نہیں آئے گا سب کو ہر روز نئی سمت بتانے والے یہ جو شہرت نے مرا نام و نسب پوچھ لیا اب مجھے سر پہ بٹھائیں گے گرانے والے اس لئے شعر کہوں لوگ تجھے پہچانیں درد دے کر مرا ماحول بنانے والے سب کہاں جان سکیں گے مرا دل جانتا ہے ان کے نخرے بھی تو ہیں ناز اٹھانے والے جب کوئی چیز سنبھالی نہیں جاتی تجھ سے تیرے ہاتھوں میں کبھی ہم نہیں آنے والے

aa gae mujh mein bhi kuchh rang zamaane vaale

غزل · Ghazal

ٹھوکریں کھایا ہوا پتھر خدا ہونا ہی تھا میرے گر جانے سے اس کا قد بڑا ہونا ہی تھا اس شجر کے سوکھ جانے کا سبب تنہائی تھی اک پرندہ آ کے بیٹھا تو ہرا ہونا ہی تھا دام کچھ اپنے زیادہ لگ رہے تھے ان دنوں پھر ہمیں بازار میں سب سے جدا ہونا ہی تھا اب عمارت ڈھ رہی ہے جسم کی تو خوف کیوں بارشوں میں بھیگنے کا شوق تھا ہونا ہی تھا سب کو حیرت ہے کہ میں تجھ سے بچھڑ کیسے گیا کچھ نہ کچھ تو اس کہانی میں نیا ہونا ہی تھا

Thokarein khaayaa huaa patthar khudaa honaa hi thaa

غزل · Ghazal

قد آور لوگوں کا قد ہی ناپا جاتا ہے اس دنیا میں سونے کو ہی پرکھا جاتا ہے تم بازار میں آ تو گئے ہو لیکن دھیان رہے شام سے پہلے بازاروں سے لوٹا جاتا ہے کیسے کیسے چہروں سے رنگ اڑنے لگتے ہیں جب بھی ہم دونوں کو ساتھ میں دیکھا جاتا ہے اپنی حقیقت جاننے والا زندہ رہتا ہے اور اس سے منہ موڑنے والا مرتا جاتا ہے پیاس نہیں احساس کی قیمت سامنے آتی ہے جب جب بھی دریا کو سمندر سمجھا جاتا ہے

qad-aavar logon kaa qad hi naapaa jaataa hai

غزل · Ghazal

دیتا ہے کوئی دل پہ لگاتار دستکیں بے چین کر رہی ہیں مجھے یار دستکیں وہ در کھلے کھلے نہ کھلے اس سے کیا غرض ہم دے رہے ہیں دیں گے لگاتار دستکیں کوئی بھی در ملے تو لپکتا ہوں اس کی سمت ایسی بندھی ہیں ہاتھوں سے اس بار دستکیں ہم مفلسوں تک اس کے سوا کیا پہنچ سکا دو چار دس صدائیں ہیں دو چار دستکیں اب کل ملا کے یہ ہی اثاثہ ہے میرے پاس تنہائی ایک چھت در و دیوار دستکیں مجھ جیسے خاک چھاننے والوں پہ جبر ہیں تنہائیوں میں ایسی پر اسرار دستکیں

detaa hai koi dil pe lagaataar dastakein

غزل · Ghazal

آہنگ نئی رت کا ملا شام سے پہلے تب میں نے بھی اک شعر کہا شام سے پہلے اے چارہ گرو رات کی پوشاک اتارو محسوس کرو درد مرا شام سے پہلے اس گھر کی تباہی پہ بہت ٹوٹ کے روئے وہ جس کا دریچہ نہ کھلا شام سے پہلے جب جب بھی ضرورت کے تقاضے نہ ہوں پورے ڈر لگتا ہے ہر روز نیا شام سے پہلے دلی میں اور اس دل میں کوئی فرق نہیں ہے اجڑا ہے اجالے میں لٹا شام سے پہلے دشمن ہی نہیں یاروں کے چہرے بھی تھے اترے جب میں نے ترا نام لیا شام سے پہلے

aahang nai rut kaa milaa shaam se pahle

غزل · Ghazal

درد بڑھتا ہے تو لگتا ہے دوا سب کچھ ہے میں اسے کیسے بتاؤں وہ مرا سب کچھ ہے یہ الگ بات کہیں نام نہ آیا اس کا میں نے جس شخص کے بارے میں لکھا سب کچھ ہے دل اسی شخص سے اک آس لگا بیٹھا ہے جس کے دامن میں محبت کے سوا سب کچھ ہے رات کہرام مچایا تھا چراغوں نے بہت یہ کوئی بول نہ پایا کہ ہوا سب کچھ ہے

dard baDhtaa hai to lagtaa hai davaa sab kuchh hai

Similar Poets