Irshad Qamar Bukhari
Irshad Qamar Bukhari
Irshad Qamar Bukhari
Ghazalغزل
کسی نے چاند سورج اور ستارے بیچ ڈالے ہیں محبت بیچ ڈالی خواب سارے بیچ ڈالے ہیں کوئی امید کوئی آسرا باقی نہیں چھوڑا وفا کے پیار کے سارے سہارے بیچ ڈالے ہیں بھنور میں چھوڑ دی کشتی ہمارے ناخداؤں نے نگاہوں کے سبھی روشن کنارے بیچ ڈالے ہیں ہماری آنکھ سے نوچے گئے ہیں سب حسیں منظر نظر چھینی گئی ہے اور نظارے بیچ ڈالے ہیں ستم تو دیکھیے ان کا قمرؔ جو ہم پہ ٹوٹا ہے در و دیوار بیچے گھر ہمارے بیچ ڈالے ہیں
kisi ne chaand suraj aur sitaare bech Daale hain
قسمت کا بن گئی ہے ستارہ تمہاری یاد دیتی ہے زندگی کو سہارا تمہاری یاد دکھ درد ساری دنیا کے آئیں جو سامنے ان سب کا ہے بس ایک ہی چارہ تمہاری یاد کرتا رہوں میں یاد تمہی کو تمام عمر دیتی ہے ایک یہ بھی اشارہ تمہاری یاد کشتی مری ہے پانی پہ یوں تو رواں دواں رہتی ہے موج بن کے کنارہ تمہاری یاد رہتی ہیں تلخیاں بھی مری زندگی کے ساتھ ان کو بنا رہی ہے گوارہ تمہاری یاد دل میں کمر کے رہتی ہے ہر لمحہ ہر گھڑی کرتی نہیں ہے دل سے کنارہ تمہاری یاد
qismat kaa ban gai hai sitaara tumhaari yaad
خزاں کی چاہ میں کھلتے چمن کو چھوڑ دیا تلاش رزق میں نکلنے وطن کو چھوڑ دیا چلے تھے گھر سے اثاثے میں ہجرتیں لے کر تمام عمر کی دل میں چبھن کو چھوڑ دیا لگا کچھ ایسا جو بچھڑے ہم اپنے پیاروں سے کہ جیسے روح نے اپنے بدن کو چھوڑ دیا انہی کے دم سے سنورتے تھے سب ہنر میرے جو وہ نہیں ہیں تو ہر ایک فن کو چھوڑ دیا وہ جس کے وصل میں نغمے لکھے کبھی ہم نے اسی کے ہجر میں ہم نے سخن کو چھوڑ دیا اب اس کی یاد میں راتوں کا چین کھوتے ہیں قمرؔ یہ کس سے کہیں کیوں وطن کو چھوڑ دیا
khizaan ki chaah mein khilte chaman ko chhoD diyaa
سلگتی آنکھ کا سپنا دکھائی دیتا ہے وہ ایک شخص جو اپنا دکھائی دیتا ہے مری بلا سے وہ اوروں کو جس طرح بھی لگے مجھے تو میرے ہی جیسا دکھائی دیتا ہے وہ روشنی کی کرن ہے بکھرتا جاتا ہے ہجوم شہر میں یکتا دکھائی دیتا ہے بس اب تو ایک ہی صورت ہے جاں بچانے کی بس اب تو ایک ہی رستہ دکھائی دیتا ہے اتر کے بام سے آیا ہے میرے آنگن میں قمرؔ میں دیکھوں وہ کیسا دکھائی دیتا ہے
sulagti aankh kaa sapnaa dikhaai detaa hai





